
گلگت: گلگت بلتستان کی سیاست میں ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سمیت تین ارکان اسمبلی نے پارٹی کی مرکزی قیادت کے فیصلے کیخلاف احتجاجاً اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی غلام شہزاد آغا نے تصدیق کی ہے کہ پارٹی کے چاروں اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دیدیا ہے پارٹی کی مرکزی قیادت نے جی بی کے نئے وزیراعلیٰ کیلئے وزیراعظم کی جانب سے نامزد کردہ امیدوار حاجی گلبر خان کو ووٹ دینے کی ہدایت کی تھی، جس پر پارٹی کے صوبائی قائدین سیخ پا ہوگئے اور مرکزی قیادت کے فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسمبلی رکنیت سے استعفی پیش کر دیئے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے گورنر گلگت بلتستان کو فون کرکے پارٹی کے فیصلے سے آگاہ کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے تمام ارکان حاجی گلبر خان کو ووٹ دیں۔ گورنر نے آصف زرداری کا پیغام پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ تک پہنچایا، جس پر وہ طیش میں آگئے اور فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اتوار کے روز امجد ایڈووکیٹ اور قمر زمان کائرہ کے درمیان بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ دوسری جانب پی پی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے باہر کارکنوں کی بڑی تعداد امجد ایڈووکیٹ سے اظہار یکجہتی کیلئے جمع ہوگئی اور امجد کے حق میں نعرے بازی کی۔ اس موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بعض ناگزیر وجوہات کی بنیاد ہر ہم نے استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔ ہم کسی عہدے کے امیدوار نہیں۔ اس لیے ہم کسی کی مخالفت کرینگے نہ ہی حمایت کرینگے۔ کیونکہ کچھ لوگوں نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا ہے۔ یہ اس علاقے کیساتھ ظلم ہے، کچھ لوگ اپنے مفادات کیلئے اس خطے کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ایسے عہدوں کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دینا چاہیئے۔ ایسے حالات میں ہم اس کھیل کا حصہ نہیں بنیں گے۔


































