
جنیوا: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے کہا ہے کہ بعض ٹیک فرموں اور کارپوریشنز کیلئے غزہ میں نسل کشی کی جنگ منافع بخش کاروبار بناہوا ہے۔ فرانسسکا البانیز نے کارپوریشنوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کریں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی قبضے،نسل پرستی اور نسل کشی سمیت جرائم کو فعال کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایگزیکٹوز کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں گوگل، ایمیزون اور مائیکروسافٹ جیسی فرموں پر الزام لگایا ہے کہ وہ اسرائیل کے قبضے کی معیشت کو نسل کشی کی معیشت میں تبدیل کرنے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 20 ماہ میں تل ابیب اسٹاک ایکسچینج میں 213 فیصد کا اضافہ ہوا جس میں مارکیٹ کے منافع میں 220 ارب ڈالرزسے زیادہ کا اضافہ ہوا۔


































