
غزہ: انروا۔ سمیت بارہ امدادی ایجنسیوں نے غزہ کو موجودہ نسل کی بدترین انسانی ناکامیوں میں سے ایک قرار دے دیا۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا ہے کہ امداد کی رسائی ختم ہونے سے غزہ میں قحط کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے اوچا نے کہا ہےکہ غزہ میں بچے دن میں ایک کھانے سے بھی کم کھا رہے ہیں اور اپنا اگلا کھانا تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکاؤ نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان کا ادارہ حالیہ جنگ بندی کے دوران سات ہزار ٹرکوں میں انسانی امداد کی فراہمی، پچس بیکریاں کھولنے اور لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیے گلیوں میں کچن قائم کرنے میں کامیاب رہا۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ کرنے کے سبب گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران خوراک کی تقسیم جاری رہی۔ تاہم اب تقسیم اور کچن چلانے کیلئے سامان ختم ہونے کے قریب ہے۔ ادارہ اب بریکنگ پوائنٹ پر پہنچ رہا ہے۔
ادھر تشویشناک صورتحال کے باوجود اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گوئر نے کہاہے کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی کا کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی جنگ زدہ علاقوں میں کوئی امداد جانے دی جائے گی۔


































