
کراچی : دعا زہرا کے بعد سندھ ہائیکورٹ نے حیدرآباد کی 11 سالہ ام ہانی کی شادی کو بھی درست قرار دیا اور اسے اپنے مبینہ شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی.لڑکی کے والد نے لڑکی کے اسکول اور امتحانی سرٹیفکیٹس بھی عدالت میں پیش کئے اور کہا کہ اسکول سرٹیفکیٹس کے مطابق امِ ہانی کی پیدائش کا سال 2010ء ہے، جبکہ نکاح نامے پر لڑکی کی عمر 18 سال درج ہے۔ام ہانی کی عمر 11 سال ہے، اغواء کرنے کے بعد اس سے شادی کی گئی۔لڑکی کے والد نے عدالت کو بتایا کہ بیٹی چھٹی کلاس میں پڑھتی ہے، یہ لوگ مافیا سے تعلق رکھتے ہیں، اسے بیچ دیں گے۔لڑکی کے والد نے کمرۂ عدالت میں آہ و بکا کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سے انصاف نہیں مانگیں گے تو کہاں جائیں گے؟ اس کے باوجود عدالت نے لڑکی کے بیان پر اُسے مبینہ شوہر آفتاب کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی. والد نے عدالت کے روبرو بیان دیا تھا کہ اس کی بیٹی امِ ہانی کو 21 مئی کو حیدر آباد سے اغواء کیا گیا۔ لڑکی امِ ہانی نے بیان دیا کہ اسے کسی نے اغواء نہیں کیا، میری آفتاب سے شادی ہوئی ہے۔عدالت نے دعا زہرا کیس کا تذکرہ کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ ہم نے بڑے کیسز میں ایسا نہیں کیا تو اس میں کیسے کر دیں گے؟حالانکہ وہ کیس میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہائی لائٹ ہو رہا تھا۔ عدالت نے لڑکی کے والد کو ہدایت کی کہ جو طریقۂ کار ہے وہی اختیار کیا جائے.


































