
لندن: ایران کے اسرائیل پر حملے کے خدشات اور سات اکتوبر سے جاری غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیلی معیشت کا بھٹہ بیٹھ گیا۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ نے اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ اے پلس سے گرا کر اے کردی ہے۔ فچ نے بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی جنگ دو ہزار پچیس تک جاری رہ سکتی ہے۔ اور اس کے دوسرے محازوں تک پھیلنے کے خطرات موجود ہیں۔ فچ نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اسرائیلی اقدامات سے خدشہ ہے کہ غزہ کا تنازعہ مشرق وسطیٰ کی ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے ۔ پچھلے مہینے کے آخر میں ایران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور بیروت میں حزب اللہ کے اعلیٰ فوجی کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کے بعد جنگ بڑھنے کے خدشات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر خزانہ نے فچ کی رپورٹ کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل جنگ جیت کر اپنی معیشت بحال کرلے گا۔ فِچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انسانی جانوں کے نقصانات کے علاوہ غزہ میں تنازعہ اضافی فوجی اخراجات، انفرا اسٹرکچر کی تباہی، اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو زیادہ اور مسلسل نقصان کا باعث بن سکتا ہے جس سے اسرائیل کے کریڈٹ میٹرکس مزید خراب ہو سکتے ہیں۔


































