
اس میں کوئی شک نہیں کہ کیرش اور قانا گیس فیلڈز سے متعلق اپنے جائز حقوق کی دستیابی لبنان اور حزب اللہ لبنان کیلئے عظیم فتح ہے۔ یہ کامیابی حتی 2006ء میں غاصب صیہونی رژیم کے خلاف 33 روزہ جنگ میں اسلامی مزاحمت کی فتح سے بھی زیادہ بڑی، واضح، اسٹریٹجک اور یاد رکھنے والی فتح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اپنی تقریر میں اسے ایک بڑا قومی جشن قرار دیا ہے۔ لبنان اور حزب اللہ کی اس تاریخی کامیابی کے بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
1)۔ اس واقعہ نے ثابت کر دیا ہے کہ جو چیز کسی بھی ملک کے قومی مفادات کا حصول یقینی بناتی ہے اور اس کی سلامتی کی ضامن ہے وہ اپنے حقوق، مفادات اور تشخص کیلئے مزاحمت اور استقامت ہے۔
گیس کے اسٹریٹجک ایشو سے متعلق موجودہ منظر اس قوم کی دس سالہ مزاحمت کا نتیجہ ہے جو شدید اقتصادی، سکیورٹی اور سیاسی بحرانوں اور مشکلات سے روبرو ہونے کے باوجود اپنے حقوق کیلئے ڈٹی رہی اور آخر میں انہیں حاصل کر کے دم لیا۔ دوسری طرف اگر لبنانی حکام اور عوام عالمی سطح پر حکمفرما طریقہ کار (جو طاقتور ملکوں کا کمزور ملکوں پر دھونس جمانے پر مبنی ہے) کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے تو انہیں لائن 29 جو نیتن یاہو لائن کے طور پر معروف ہے، کو قبول کرنا پڑتا۔ کیونکہ اس وقت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے بھی اسی لائن کو قبول کرنے کیلئے لبنانی حکام پر زور دیا تھا جبکہ امریکہ کے خصوصی نمائندے کی بھی یہی رائے تھی۔ تمام صورتحال سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ لبنان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ عالمی سطح پر کوئی بھی لبنان کی حقیقی سمندری حدود کا حامی نہ تھا۔
2)۔ لائن 23 تک رسائی حاصل کر کے لبنان ایسی عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے جس کا حزب اللہ لبنان کے مخالفین بھی اسلامی مزاحمت سے دشمنی رکھنے کے باوجود اقرار کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اس مسئلے میں حزب اللہ لبنان کی حمایت اور ہمراہی کرنے پر بھی مجبور ہیں۔ جیسا کہ سمیر جعجع اور ولید جنبلاط نے واضح طور پر اسے لبنان کیلئے ایسی بڑی فتح قرار دیا ہے جو حزب اللہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ حزب اللہ لبنان کی یہ کامیابی ایک بار پھر لبنانی معاشرے میں اتحاد اور وحدت کی فضا قائم ہونے کا باعث بنے گی جو اس ملک کو درپیش سیاسی چیلنجز اور اختلافات پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو گی۔ سید حسن نصراللہ اس نکتے کی جانب متوجہ تھے لہذا انہوں نے اپنی تقریر کا عنوان "لبنان کی وحدت” رکھا تھا۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے باہمی اختلافات بھول کر حکومت تشکیل دینے اور ملک کو درپیش بحرانوں سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔
3)۔ لبنان قانا اور کیرش گیس فیلڈز پر کنٹرول حاصل کر لینے کے بعد تیل اور گیس سے مالا مال علاقے کے تین چہارم حصے کا مالک بن چکا ہے۔ لہذا وہ بحیرہ روم میں گیس کی تجارت کا بڑا مرکز بن سکتا ہے۔ یہ وہ مقصد ہے جس کے خواب اسرائیل دیکھ رہا تھا لیکن اب لبنانی اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ لبنان کا خطے میں گیس کا تجارتی مرکز بن جانے کے بعد شمالی افریقہ کے مسلمان ممالک اور جنوبی یورپ کے عیسائی ممالک سے بھی اس کے تعلقات فروغ پا سکتے ہیں۔ اس کا نتیجہ اقتصادی پابندیوں کے بے اثر ہو جانے اور لبنان کا گوشہ گیری سے باہر نکل آنے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کی مضبوط پوزیشن کے پیش نظر بحیرہ روم میں افریقی، ایشیائی اور یورپی ممالک مکمل طور پر پرامن انداز میں تجارتی سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں۔
4)۔ لبنان اور حزب اللہ کی یہ عظیم کامیابی کم از کم آئندہ طویل عرصے تک حزب اللہ لبنان کے اسلحہ کو متنازعہ بنانے کی کوششوں کو ناکارہ بنا دے گی کیونکہ تمام لبنانی اس حقیقت کو سمجھ چکے ہیں کہ یہ فتح حزب اللہ لبنان کی فوجی طاقت اور مزاحمت کی مرہون منت ہے۔ لبنانیوں نے ایک بار پھر محسوس کیا ہے کہ اسلامی مزاحمت کی فوجی طاقت نہ صرف قومی یا سیاسی تنازعات کے حل کا ذریعہ ہے بلکہ قومی مفادات کے حصول کا ذریعہ بھی ہے۔ وہ بھی ایسے مگر مچھ کے منہ سے قومی مفادات باہر نکالنے کا ذریعہ جسے اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپ کی مکمل حمایت اور آشیرباد حاصل ہے۔ لہذا حزب اللہ کی فوجی طاقت کو ایک بار پھر تحفظ ملا ہے اگرچہ اس معاہدے کے نتیجے میں حزب اللہ کے دشمنوں اور اسرائیل کے پٹھو عناصر کی خباثتیں ختم نہیں ہوں گی لیکن کئی سالوں تک رائے عامہ انہیں اس کام کی اجازت نہیں دے گی۔
5)۔ ایک اور اہم نکتہ اس عظیم فتح کے لبنان، غاصب صیہونی رژیم اور خطے پر جیوپولیٹیکل اثرات ہیں۔ صیہونی رژیم کی جانب سے لائن 23 کو لبنان کی سمندری حدود کے طور پر قبول کئے جانے کا مطلب زمین پر بھی اس کے حقوق کا اعتراف کرنا ہے۔ مزید برآں، سمندر میں حزب اللہ کے مقابلے میں پسپائی زمین پر پسپائی بھی ہے جیسا کہ سمندر میں یہ عظیم کامیابی گذشتہ سالوں 1996ء، 2000ء اور 2006ء میں حزب اللہ کی زمین پر عظیم کامیابیوں کا نتیجہ ہے۔ لبنان کی اس عظیم کامیاب کا غاصب صیہونی رژیم پر اثر یہ ہے کہ وہ دشمن کے مقابلے میں پسپا ہوا ہے اور آخرکار کم از کم پر راضی ہوا ہے۔ اسے ماننا پڑے گا کہ لبنان سے یہ معاہدہ حزب اللہ کی فوجی طاقت کے سائے تلے انجام پایا ہے جبکہ اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپ اس کی کم ترین مدد نہیں کر پائے ہیں۔


































