
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی
بعض تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانا اور کیرش گیس فیلڈز میں پائے جانے والے گیس کے ذخائر 60 ٹریلین فٹ مکعب گیس کے حامل ہیں۔ امریکی ذرائع کے بقول بحیرہ روم میں مجموعی طور پر 122 ٹریلین فٹ مکعب گیس اور 1.7 ٹریلین بیرل تیل پایا جاتا ہے۔ لیکن کچھ تحقیقاتی مراکز ان اعداد و شمار کو درست قرار نہیں دیتے۔ 2011ء سے 2020ء کے دوران لبنان میں کم مدت والی کمزور حکومتیں برسراقتدار آئیں جو گیس کے مسئلے پر خاص توجہ نہیں دے پائیں۔ حکومتوں کی غیر مستحکم صورتحال، اندرونی اختلافات اور سکیورٹی بحرانوں اور درپیش سیاسی چیلنجز میں ان کی مصروفیت اس بات کا باعث بنی کہ وہ اس اہم مسئلہ پر پوری توجہ دے سکیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر لبنان پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے 2012ء میں اس مسئلے کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
انہوں نے ملک کو درپیش حالات کے تناظر میں ایک منصوبہ تیار کیا جس کے تحت لائن 23 کو قانا اور کیرش کے لبنانی حصے کے آغاز کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سعد حریری کی سربراہی میں لبنان کی حکومت وقت نے بھی اس مسئلے پر توجہ دینا شروع کر دی لیکن جس قدر حکومت میں اس مسئلے پر بات چیت کی جاتی تھی وہ نبیہ بری کی ٹیم میں لگائے جانے والے وقت سے بہت کم تھا۔ حکومت نے اپنی توجہ لائن 29 پر مرکوز کر رکھی تھی جس پر بعد میں لبنان اور غاصب صیہونی رژیم کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے والے امریکہ کے خصوصی نمائندے نے بھی زور دیا۔ البتہ اس بارے میں لبنان کا سرکاری موقف واضح نہیں تھا جبکہ ابھی تک اس کی فائل پر صدر کے دستخط بھی موجود نہیں تھے۔ یوں یہ مسئلہ نبیہ بری کی ٹیم اور حکومتی ٹیم کی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم اپروچ کے درمیان گھومتا رہا۔
اس دوران حزب اللہ لبنان اس بات پر زور دیتی رہی کہ سمندری حدود کے تعین اور قانا اور کیرش گیس فیلڈز میں لبنان کا حصہ مشخص کرنے کے بارے میں لبنان کے سرکاری اور حتمی موقف کا انتظار کرے گی۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم لائن 29 پر زور دے رہی تھی جبکہ لبنان کی جانب سے اس لائن کو قبول کرنے کا نتیجہ نہ صرف گیس کے ذخائر میں اس کے حصے کی کمی کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا بلکہ شبعاع کھیتوں میں اس کی سرحدی لائن بھی متاثر ہوتی تھی اور یہ لبنان کی قومی سلامتی کیلئے بہت بڑا خطرہ تھا۔ حزب اللہ لبنان حکومت کی جانب سے واضح موقف کے اظہار کا انتظار کر رہی تھی اور اس دوران گیس فیلڈز کا مسئلہ پارلیمنٹ کی جانب سے حکومت کے سپرد کر دیا گیا اور پارلیمنٹ نے بھی حتمی موقف حکومت پر چھوڑ دیا۔
لبنان کے صدر مائیکل عون نے اسی بنیاد پر مذاکرات کو آگے بڑھایا اور لائن 23 پر زور دیتے ہوئے اپنا حتمی موقف واضح کر دیا۔ لبنان کی جانب سے سرکاری موقف واضح ہو جانے کے بعد اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے بحیرہ روم میں اپنی فوجی سرگرمیاں تیز کر دیں اور اعلان کیا کہ وہ کسی قیمت پر لبنان کو لائن 29 سے زیادہ حصہ دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ دوسری طرف حزب اللہ لبنان نے بھی ریڈ الرٹ جاری کر دیا اور غاصب صیہونی رژیم کو وارننگ کے طور پر اپنے چند انٹیلی جنس ڈرونز خطے کی جانب روانہ کئے اور یوں بحیرہ روم کی فضائی نگرانی شروع کر دی۔ صیہونی رژیم نے ان ڈرونز کو نشانہ بنایا لیکن حزب اللہ لبنان کیلئے اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی کیونکہ یہ ڈرون طیارے اپنا مشن مکمل کر چکے تھے۔
ان ڈرون طیاروں کو بھیجنے کے دو بنیادی مقاصد تھے۔ پہلا مقصد خطے کی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرنا تھیں جو یہ طیارے اپنے کنٹرول روم ارسال کر چکے تھے۔ دوسرا مقصد صیہونی رژیم کو وارننگ دینا تھا۔ یہ مقصد بھی حاصل ہو گیا تھا جیسا کہ خود صیہونی میڈیا نے اعلان کیا کہ حزب اللہ لبنان نے فوجی طاقت بروئے کار لانے کیلئے اپنی سنجیدگی کا اظہار کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد امریکہ کا خصوصی ایلچی ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے خطے میں آیا اور معمول کے مطابق اس بات کا اعلان کرنے لگا کہ نہ لبنان کی رائے اخذ کی جائے گی اور نہ ہی اسرائیل کی اور لائن 23 اور لائن 29 کے درمیان کوئی اور لائن چنی جائے گی۔ اگر لبنانی حکومت اس بات کو قبول کر لیتی تو وہ اپنے سمندر میں 2500 کلومیٹر مربع علاقے سے ہاتھ دھو بیٹھتی۔ لہذا حزب اللہ نے دوٹوک موقف اختیار کیا جس کے نتیجے میں لبنانی حکومت میں بھی جرات پیدا ہوئی۔
حزب اللہ لبنان کی تاکید کے بعد لبنانی حکومت نے واضح طور پر لائن 23 سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا اور اعلان کیا کہ وہ قومی مفادات سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اس کے بعد لاپید کی متزلزل حکومت نے آخری کوشش کے طور پر گیس تلاش کرنے والی کشتیوں کو لائن 29 تک آگے بڑھانے کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ اگر حزب اللہ لبنان نے کاروائی کی تو جنگ شروع کر دی جائے گی۔ لیکن جب اسے نے دیکھا کہ حزب اللہ لبنان نے بھی ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے اور وہ حتی جنگ کیلئے پوری طرح تیار ہے تو اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گیا اور لائن 23 کو ہی حتی راہ حل کے طور پر قبول کر لیا۔ کیرش اور قانا گیس فیلڈز کی سکیورٹی، سیاسی، اقتصادی اور جیوپولیٹیکل شعبوں میں حد درجہ اہمیت کے پیش نظر یہ کہنا بجا ہو گا کہ یہ کامیابی 2000ء میں اسرائیلی فوجیوں کو ملک سے نکال باہر کرنے کے بعد لبنان اور حزب اللہ کی دوسری عظیم فتح ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


































