
نیویارک : اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کے ترجمان اسٹیفن ڈوجاریک نے کہا ہےکہ اس وقت صومالیہ کے سامنے بارش نہ ہونے، غذائی اشیاء کی اونچی قیمتوں اور انسانی امداد کے نہ بھیجے جانے کی وجہ سے، قحط کا خطرہ ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ صومالیہ کے 6 علاقوں کو ابھی سے جون تک کم بارش کی وجہ سے قحط اور بھکمری کا سامنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے صومالیہ کی صورتحال خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے جس سے 49 لاکھ افراد کے متأثر ہونے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح سال کے آغاز سے اب تک غذائی سکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ صومالیہ میں 80 فی صد سے زیادہ آبی ذخائر ختم ہو رہے ہیں، شابل اور جوبا ندیوں میں پانی کی سطح سب سے نچلی سطح پر پہونچ گئی ہے۔ انکے مطابق، اندازے بتاتے ہیں کہ اس وقت 35 لاکھ لوگوں کی کافی مقدار میں پانی تک دسترسی نہیں ہے۔ اسٹیفن ڈوجاریک نے کہا کہ اندازہ کے مطابق، صومالیہ میں پانچ سال سے کم عمر کے 14 لاکھ بچوں کو غذائیت کی شدید کمی کا سامنا ہوگا۔


































