
ماسکو : روس کے صدر ولادیمیر پیوتن کے دورہ چین کے موقع پر دونوں ملکوں کے مابین تعاون کے غیر معمولی معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں اور دوستی و شراکت داری کو حدود سے ماورا قرار دیا گیا ہے۔بیجنگ میں جاری مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کی کوئی حدود نہیں، اسی طرح تعاون کے لیے کوئی ممنوع شعبہ بھی نہیں۔صدر پیوٹن نے چین کے ساتھ 117 ارب ڈالر مالیت کا تیل اور گیس کی ترسیل کا معاہدہ بھی کیا۔ روس پہلے ہی چین کو گیس سپلائی کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔دونوں ملکوں نے امریکہ کے میزائلوں کی تیاری اور دنیا کے مختلف خطوں میں اس کی جانب سے افواج کی تعیناتی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اعلامیے میں واشنگٹن کا نام لیے بغیر انہوں نے ایسی ریاستیں کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے شدید تنقید کی اور کہا کہ وہ عالمی اجارہ داری قائم کرنا چاہتی ہیں جبکہ تصادم اور اپنے معیارات کے مطابق جمہوریت کو بھی مسلط کرنا چاہتی ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چین کے سربراہ شی جن پنگ نے بیجنگ میں2022ء کے سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب سے پہلے ملاقات کی جس میں انھوں نے امریکی اثرو رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے قریبی تعاون اپنانے پر زور دیا۔چین کا کہنا ہےکہ پیوٹن اور شی کی اب تک کی یہ 38ویں بالمشافہ ملاقات تھی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے میں جب دونوں ملکوں کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، ان کی کوشش یہی ہے کہ وہ اپنے مراسم میں مزید قربت پیدا کریں۔


































