اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے۔ اشرف المخلوقات سے مراد یہ ہے کہ باقی مخلوق پر انسانوں کو برتری حاصل ہے گو کہ انسان اور دیگر مخلوق خدا میں مشترک خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر انسانوں کی طرح جانوروں کی بھی نسل بڑھتی ہے بچوں کے لئے انسانوں میں جس طرح پیار اور ممتاپائی جاتی ہے وہی پیار اور مامتا جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ لیکن آخر وہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے انسان کو دیگر مخلوق پر برتری دی گئی ہے۔
عقل ایک ایسی چیز ہے کہ انسان کی باقی ساری خصوصیات اس خصوصیت سے جنم لیتی ہیں مثلاً انسان تاریخ کا ایک حصہ بنتا ہے یعنی اس کی زندگی اور کارناموں کے بارے میں لکھا جاتا ہے جو کہ صدیوں بعد بھی پڑھا جاتا ہے اور یاد کیا جاتا ہے جس طرح قائداعظم ؒ کو ہم نے دیکھا نہیں نہ ہم ان کے بارے میں کچھ جانتے تھے لیکن ان کے بارے میں جو تاریخ لکھی گئی اس سے یہ پتہ چلا کہ انہوں نے ہمارے ملک کو بنایا تھا اور مسلمانوں کو دشمنان اسلام سے بچانے کے لئے ایک مرکز مہیا کیا تھا جبکہ جانوروں میں ایسی کوئی چیز نہیں پائی جاتی۔ مثال کے طور پر شہد کی مکھی کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی اور نہ ہی آنے والی نسل میں کسی کو یاد ہوتا ہے کہ کون سی شہد کی مکھی پہلے موجود تھی یا اس نے زندگی میں کوئی اہم کام سر انجام دیا تھا جبکہ انسان میں تحقیق کا مادہ موجود ہوتا ہے وہ ماضی کے لوگوں، ان کی طرزز ندگی اور زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کے بارے میں تحقیق کرتا ہے کہ پہلے ادوار کے لوگوں کا طرز زندگی کس طرح کا تھا اور اس میں کس طرح تبدیلیاں واقع ہوئیں۔
یعنی سب سے پہلے انسان غاروں میں رہتا تھا اور پھل کھا کے گزارہ کرتا تھا پھر اس نے سوچنا شروع کیا اور سبزیاں اور پھل اگانے شروع کئے غاروں کے بجائے لکڑیاں اکٹھی کرکے ان سے گھر بنائے ، پتھروں کو رگڑ کے آگ حاصل کی جس کو سردیوں میں لکڑیاں جلانے کے لئے استعمال کیا تاکہ گرمائش سے سردی کو کم کیا جاسکے۔ اس سے کھانا بنانا شروع کیا پھر ریشم کے کیڑے سے ریشم حاصل کیا اس سے کپڑا بنایا اور درختوں کے پتوں کے بجائے بدن ڈھانپنے کے لئے کپڑے کا استعمال شروع کیا پھر آہستہ آہستہ وہ ان سب چیزوں میں ترقی کرتا گیا۔ اپنی سہولت کے لئے اس نے چیزیں بنانا شروع کیں اور اگر آج انسان پہلے دور میں چلا جائے تو اسے اندازہ ہوگا کہ آج کا انسان کتنی ترقی کرچکا ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ حیوانات کی زندگی کا تجزیہ کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ صدیوں پہلے جانور جس طرح کھاتے پیتے اور رہتے سہتے تھے ان کی موجودہ زندگی بھی اسی طرح ہے۔ ان کے نہ تو کھانے پینے میں کوئی تبدیلی آئی ہے، نہ رہنے کا طریقے میں۔
اس کے علاوہ انسانوں میں رشتوں کا احساس اور ان کے لئے فکر مندی کا جذبہ پایا جاتا ہے جو صرف عقل کی بنا پر ہے یعنی انسان سوچتا ہے لوگوں کا تجزیہ کرتا ہے اور ان کے لئے جذبات رکھتا ہے جبکہ جانوروں میں ایسی کوئی چیز نہیں پائی جاتی مثال کے طور پر لاہور میں رہنے والی بکری کو اسلام آباد میں رہنے والی بکری کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہوگی۔ یہ ترقی اور تنزلی صرف انسان میں موجود ہوتا ہے جبکہ جانور نہ تو ترقی کرتے ہیں اور نہ ہی تنزل ان کی زندگی میں آتا ہے۔ جب انسان کسی چیز کو دیکھتا ہے تو اس کے وجود کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس کا تجزیہ کرتا ہے یہ سب صرف عقل کی وجہ سے ہے۔ انسان میں لکھنے پڑھنے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ جانور لکھنا پڑھنا نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو قلم کے ذریعے سے لکھنا سکھایا اور قرآن پاک میں بھی صرف انسانوں کے لئے علم کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ سب خصوصیات اور فضیلت جو کہ انسان کو حاصل ہوئی ہے۔ یہ سب عقل کی مرہون منت ہے اور اسی خصوصیت نے انسان کو تمام مخلوقات میں اشرف المخلوقات بنا دیا ہے۔
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- انسان اشرف المخلوقات
انسان اشرف المخلوقات
-
Ilyas - جون 11, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 19
- 0 minute read


































