
ویانا : یوکرین جنگ کے بعد تیل کی بڑھتی قیمت نے یورپی یونین اور امریکا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا اب انکی پوری کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدے کو بحال کرکے عالمی معیشت کے نازک وقت میں ایرانی تیل کو عالمی منڈی میں واپس لایا جاسکے۔ وہ ویانا میں معاہدے کو بچانے اور ایران کو دباؤ میں لینے کی پوری کوشش کررہے ہیں روس کی فوجی مہم شروع ہونے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی ہے اور تیل برآمد کرنے والے ممالک کے گروپ اوپیک پلس اور روس نے ایک اجلاس میں سپلائی میں معمولی اضافے کے پہلے سے طے شدہ منصوبہ پر برقرار رہنے پر زوردیا ہے اور ریلیف کی بہت کم پیش کش کی ہے۔ اگر ویانا جوہری مذاکرات کسی نتیجے کے بغیرختم ہو جاتے ہیں تو خام تیل کی قیمت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ بہت سے تاجر اس سال عالمی منڈیوں میں ایرانی تیل کی واپسی کی توقع کر رہے ہیں۔ تاجروں کے مطابق دنیا میں قدرتی گیس کے دوسرے نمبر پراور خام تیل کے چوتھے نمبر پر ذخائر رکھنے والا ایران شاید کسی بھی معاہدے کی صورت میں مہینوں کے اندر برآمدات میں قریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ کر سکتا ہے۔


































