
اسلام آباد : اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ عدالت آئین اور قانون توڑنے والوں کو ذمے دار سمجھتی ہے، اگر آئین کی پامالی ہوتی ہے تو ہر کوئی اس کا ذمے دار ہے۔ لوگوں کو لاپتہ کرنا ٹارچر کی سب سے بڑی قسم ہے، ایسا تاثر نہیں ہونا چاہیے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو اٹھاتے ہیں، یہ تاثر ہماری نیشنل سیکیورٹی کو متاثر کرتا ہے۔ جب ریاست آ کر بتاتی ہے کہ ہمیں نہیں پتہ کہ لوگ کس نے لاپتہ کیے، پھر کیا کریں؟ اگرآئین پرعمل نہیں ہوتا توسب کچھ پیک کرکے گھرجانا چاہیے۔معاملات کو پارلیمنٹ میں لے کر جائیں ان پر قانون سازی کریں۔ لوگوں کو لاپتہ کرنا ناقابل برداشت ہے۔ ایک بھی شخص لاپتہ ہوتا ہے توچیف ایگزیکٹو براہ راست ذمہ دارہے۔ اگر چیف ایگزیکٹو کہےکہ انٹیلی جنس ایجنسیاں میرے ماتحت نہیں تو وہ آئین سے انحراف تسلیم کرتا ہے اسے عہدہ چھوڑ کر گھر جانا چاہیےانہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں آئین سے انحراف ہے، یا تو آپ کو کہنا پڑے گا کہ آئین اس کی اصل شکل میں بحال نہیں۔ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پرویز مشرف کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک چیف ایگزیکٹیو نے اس ملک پر 9 سال حکمرانی کی، انہوں نے اپنی کتاب میں فخریہ لکھا کہ اپنے لوگوں کو بیرونِ ملک فروخت کیا، اس سےلگتا ہے کہ شاید یہ ریاست کی پالیسی تھی۔مسنگ پرسنز بہت بڑا ایشو ہے۔ ریاست کا وہ ردعمل نہیں آ رہا جو ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جو کمیشن بنایا گیا اس سے خاندانوں کے دکھوں میں اضافہ ہوا۔ حراستی مراکزسےلوگ بازیاب ہوئےلیکن کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ شہری خود کو ریاست سے غیرمحفوظ محسوس کر رہے ہیں۔


































