
جنوری ۷۰۰۲ میں ۰۱ سالہ سرجیو پلیکو نے امریکی شہر ہاسٹن میں صدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو دیکھنے کے بعد خود کو پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔اطلاعات کے مطابق بچے نے یہ سوال کیا تھا کہ ’کیا اس طرح وہ لوگوں کو مارتے ہیں؟‘ جس پر اہل خانہ نے جواب دیا کہ ’نہیں، لیکن چونکہ یہ آدمی بْرا تھا اس لیے اس کے ساتھ ایسا کیا گیا۔‘
لیکن یہ عمل دہرانے والا صرف پلیکو ہی نہیں بلکہ صدام حسین کی پھانسی کے بعد اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں ایک ہفتے کے اندر کم از کم۷ بچوں نے خود کو مار دیا تھا۔پلیکو کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ماہرِ نفسیات ایڈورڈ بشوف نے کہا تھا کہ اس لڑکے نے جو مناظر ٹی وی پر دیکھے تھے وہ شاید اس کی نقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ ایسا عمل کرنے سے قبل وہ جذباتی اور نفسیاتی اعتبار سے اس عمل کے بارے میں سوچنے کی بلوغت ہی نہیں رکھتا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ ایسے بھی کئی کیسز سامنے آئے کہ جن میں بچوں نے ٹی وی پر ریسلنگ، لڑائی یا دیگر پْرخطر کھیل کی نقل کی غرض سے خود کو چوٹ پہنچائی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’بچوں کو اکثر ایسے رویوں کی نقل کرنے میں چھپے خطرات کا احساس ہی نہیں ہوتا اور یہ احساس تب جا کر ہوتا ہے جب چوٹ لگ چکی ہوتی ہے۔‘
ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے مناظر ان نو عمر بچوں پر اثر ڈالتے ہیں کہ جو موت اور تشدد کے نتائج کو سمجھنے کے لیے ابھی پوری طرح بالغ ہی نہیں ہوتے۔ قاہرہ میں واقع عین شمس یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر حشام رامے کہتے ہیں کہ، ’بچے یہ دیکھتے ہیں عمل کیسے کیا گیا، وہ اسے خطرناک نہیں سمجھتے اور غالب امکان ہے کہ وہ اس عمل کو دہرانے کی کوشش کریں۔‘
کراچی میں مقیم ممتاز ماہرِ نفسیات، ڈاکٹر فیصل مامسا کے مطابق، بچے روزانہ اوسطاً 2 سے 4 گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں۔ اس دوران بچے مختلف نوعیت کے پْرتشدد مناظر دیکھتے ہیں۔ چاہے پھر ایسے مناظر وہ کارٹونوں میں ہوں یا پھر ڈراموں، فلموں یا خبروں میں۔ اپنی عمر کے ابتدائی حصے میں بچے اپنے ارد گرد کے ماحول میں ہو رہے عوامل اور جو کچھ سنتے ہیں اور دیکھتے ہیں اسے اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ ٹی وی پر پْرتشدد پروگرامز دیکھنے سے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ممسا کہتے ہیں کہ‘ٹی وی سماجی تعلیمی اخلاقی رویے اور رویوں کی تعمیر میں زبردست کردار ادا کرسکتا ہے۔ بدقسمتی سے، حالیہ دنوں میں ٹی وی پر دکھائے جانے والا زیادہ تر مواد تشدد پر مشتمل ہوتا ہے۔ مختلف تحقیقوں کے مطابق ٹی وی پر پْرتشدد مناظر دیکھنے کے بعد جارحانہ رویے میں 12 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔‘
ڈاکٹر عظمیٰ عنبرین، پاکستان ایسوسی ایشن آف مینٹل ہیلتھ سے وابستہ کنسلٹنٹ ماہرِ نفسیات ہیں، وہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’جب بچے ٹی وی پر پْرتشدد مناظر دیکھتے ہیں تو ان کی شخصیت میں جارحیت پیدا ہونے کا رسک بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ان میں تشدد کو لے کر حساسیت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ وہ جو اسکرین پر دیکھتے ہیں اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مثلاً بچے سپر ہیروز کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر چونکہ وہ ٹی وی پر کسی شخص کو چوٹ لگتے ہوئے نہیں دیکھتے اس لیے انہیں اس میں چھپے ممکنہ نتائج کا احساس ہی نہیں ہوتا۔‘ پروگرام میں اگر یہ پیغام دیا جائے کہ تشدد غلط ہے تو پھر ٹھیک ہے لیکن اگر کوئی ابہام ہو تو پھر ایسی کوئی چیز دکھانا ٹھیک نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس پیرنٹل گائڈینس یا والدین کے لیے ضروری ہدایات ہی دستیاب نہیں ہوتیں۔
پْرتشدد کارٹون اور فلمیں وغیرہ بچے کے ذہن میں سوچ پیدا کرسکتی ہیں کہ دنیا ایک خطرناک اور غیر محفوظ جگہ ہے۔ اگر بچے تواتر کے ساتھ ایسے پروگرام دیکھیں گے تو وہ رات کو گھر سے باہر ٹہلنے سے بھی گھبرائیں گے کہ کہیں وہ کسی جرم کا شکار نہ بن جائیں، دیگر لفظوں میں کہیں تو ان کی ذہنیت میں ’بدتر دنیا‘ کا تصور بیٹھ جاتا ہے۔
صورتحال بدترین اس وقت ہوجاتی ہے جب نیوز ٹی وی چینل۴۲ گھنٹے موت، تباہی اور تنازعات کی خبریں نشر کر رہے ہوتے ہیں اور لاشوں، بم دھماکوں کے مناظر دکھا رہے ہوتے ہیں۔ بچوں کا بھلے ہی دھیان ٹی وی اسکرین کی طرف نہ ہو لیکن وہ نشر ہو رہے لفظوں کو پکڑ یا ذہن میں محفوظ کرلیتے ہیں اور امکان ہے کہ وہ اپنے دماغ میں یہ تاثر پیدا کرلیں کہ دنیا محفوظ جگہ نہیں۔ وہ بے حد خوفزدہ یا پھر ان میں تشدد کے خوف کو لے کر غیر حساسیت پیدا ہوسکتی ہے۔
چونکہ میڈیا پر لوگوں کی فطری جارحانہ سوچ اور احساسات کی وجہ سے تشدد کو قابلِ قبول پیش کیا جاتا ہے اس لیے بچے یہ سوچنا شروع کردیتے ہیں کہ جارحانہ برتاؤ کرنا مثلاً غصہ، جلن یا اپنا دکھ دکھانے کے لیے دیگر کو مارنا، ایک عام سی بات ہے۔ چونکہ ٹی وی کرداروں کو پْرتشدد رویوں پر نتائج کا سامنا کرتے ہوئے دکھایا نہیں جاتا لہٰذا بچوں کو احساس ہی نہیں ہوپاتا کہ ان کے جارحانہ رویے کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں۔ اس طرح ان میں جارح پسندی پیدا ہونے لگتی ہے اور جب ٹی وی پر دکھائی گئی کسی صورتحال کا سامنا ہو تو پھر وہ بھی یہ سوچ کر جارحانہ سلوک برتتے ہیں کہ جارحیت ہی مسئلے کا مناسب حل ہے۔
ٹی وی پر بار بار دکھائے جانے والے پْرتشدد مناظر بچوں کو غیر حساس بنا دیتے ہیں اور بچوں کے لیے یہ تشدد کے مناظر عام سی بات ہوجاتی ہے۔ اس طرح بچوں کے اندر دیگر کی تکلیف کو محسوس کرنے یا ان کی فکر کرنے کی سوچ ہی ختم ہوجاتی ہے۔
جبکہ کئی گھروں میں بچوں کے ٹی وی دیکھنے کے حوالے سے کسی قسم کے ضابطے ہوتے ہی نہیں ہیں، حتیٰ کہ بچے ٹی وی ڈرامے یا شوز دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ ڈرامے بچوں کے لیے نہیں بنائے جاتے اور ان ڈراموں میں لازماً پْرتشدد مواد شامل ہوتا ہے۔ جب بچے اداکاروں کو کسی چھوٹے سے چھوٹے معاملے پر ایک دوسرے کو تھپڑ مارتے ہوئے یا پستول نکالتے ہوئے، ایک دوسرے سے جسمانی یا زبانی لڑائی اور آگ میں جلاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو پھر وہ یہ تسلیم کرنے لگ جاتے ہیں کہ تشدد کے ذریعے کسی قسم کے نتائج کی پرواہ کیے بنا مسائل سے نمٹا اور تنازعات کو حل کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح، اغوا اور جنسی حراسگی کی خبروں کی وجہ سے بچے گھر سے باہر نکلنے میں خوف محسوس کرسکتے ہیں۔ جب وہ نیوز چینل پر بار بار یہ سنتے ہیں کہ، ’2 دن پہلے گھر سے نکلنے والے بچے کی لاش برآمد‘، تو وہ گھر سے باہر قدم رکھنے سے ڈرنے لگتے ہیں اور گھر سے باہر اکیلے نکلنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتے ہیں۔ ڈاکٹر مامسا کہتے ہیں کہ، ’جب بچے ٹی وی پر کسی پروگرام میں لوگوں اور رشتہ داروں کو اغوا کاری یا جسمانی، جذباتی یا جنسی طور پر استحصال کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو امکان ہے کہ وہ اپنی حقیقی زندگی میں دیگر لوگوں پر اعتماد کھودیں۔‘
ٹی وی پر دکھایا جانے والا تشدد بچے کی شخصیت کو متاثر کرے یا نہ کرے، مگر والدین اپنے بچوں کو اس تشدد سے محفوظ ضرور رکھ سکتے ہیں۔ انہیں نظر رکھنی چاہیے کہ ان کے بچے ٹی وی پر کیا دیکھ رہے ہیں اور کبھی کبھی ان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنا چاہیے۔ ثمینہ کہتی ہیں کہ ’والدین کو کبھی بھی بچوں کو پْرتشدد شو زدیکھنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ جب ایسا کوئی مواد آنے لگے تو انہیں چینل تبدیل کردینا چاہیے اور بچوں کو بتانا چاہیے کہ اس پروگرام کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔‘
عنبرین کہتی ہیں کہ ’والدین کو احتیاط کرنی چاہیے کہ ٹی وی ہمیشہ چلتا نہ رہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ والدین کی رہنمائی نہیں ہوتی۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ والدین کو بچوں کو درست رویے سکھانے چاہیئں۔یہ ایک اچھا طریقہ ہوگا کہ ٹی وی دیکھنا کم کردیا جائے۔
بچوں کو اپنا فارغ وقت فائدہ مند سرگرمیوں میں گزارنا چاہیے جن میں پڑھنا، اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنا، بورڈ گیمز، کھلو


































