
بچوں کی بنیادی اور فطری ضرورتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اسے اس بات کا اطمینان ہو کہ اس کے آس پاس کے لوگ اور گھر والے اسے دوست رکھتے ہیں اور اسے چاہتے ہیں۔
البتہ اس راہ میں انسان یہاں تک بھی پہنچ سکتا ہے کہ وہ دوسروں کے چاہنے نہ چاہنے سے بے نیاز ہو جائے اور صرف خدا کی رضایت اس کے لیے اہم ہو
لیکن بچہ چونکہ پہلے مرحلے میں ہے تو وہ چاہتا ہے اس کے گھر والے اور اطراف کے لوگ اسے پسند کریں تاکہ آہستہ آہستہ بڑھتی عمر کے ساتھ وہ خدا کی پسند کو بھی حاصل کرنے تک پہنچ جائے۔
کوئی بھی دنیا میں والدین سے بڑھ کر بچے کو نہیں چاہتا لیکن بعض دفعہ والدین کچھ غلطیاں کر بیٹھتے ہیں کہ بچے کی یہ ضرورت پوری نہیں ہو پاتی یا مکمل طور پر پوری نہیں ہو پاتی حتی اس کے برخلاف بچہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کے ماں باپ اس کو نہیں چاہتے۔
سات سال سے چھوٹے بچے نہیں سمجھتے کہ میرے امی ابو میرے لیے کتنی زحمتیں اٹھاتے ہیں۔ ان کو ان چیزوں کا کوئی تصور نہیں۔
مثلا سات سال سے ایک چھوٹا بچہ ہے، ماں باورچی خانے میں بہت کام کر کے تھک ہار کے کمرے میں آئے اور دیکھے کہ بچے نے ایک چیز گرا دی ہے تو غصہ ہوتی ہے اور کہتی ہے، یہ کیا کیا؟ تم مجھے اچھے نہیں لگتے میں تمہاری ماں نہیں ہوں یا بچہ کسی بات پہ ضد کر رہا ہو اور رونے لگے تو ماں کہتی ہے اگر یہ کام نہیں کرو گے تو میں تمہاری ماں نہیں ہوں اور تم مجھے اچھے نہیں لگتے، میں تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں گی تم تو مجھے کچرے کے ڈھیر سے ملے تھے۔۔۔۔وغیرہ، تو بچہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ بچہ اپنے ماں باپ کو خدا مانتا ہے۔ وہی اس کا سب کچھ ہوتے ہیں اگر وہی اس کو ٹھکرا دیں تو وہ بچہ غصہ، اکیلا بیٹھنا پسند کرنا،بات نہ ماننا، شدید ضدی یا ہر مختلف شکل سے اپنی روحی مشکلات دکھاتا ہے۔
ایسی باتوں سے اس کی ذہنی امنیت خراب ہو جاتی ہے وہ اپنے اپ کو نا امن محسوس کرتا ہے۔ ناامنی صرف فائرنگ، زلزلہ دھماکے تو نہیں بلکہ باتوں سے بھی کسی کا ذہن ناامن ہو سکتا ہے۔
بچے کی اس ضرورت کو کیسے برطرف کیا جائے؟
ڈائریکٹ ماں باپ سے یہ زبانی اظہار سنے کہ ہم تمہیں بہت چاہتے ہیں
ان کے رویوں سے یہ احساس کرے کہ میرے والدین مجھے پسند کرتے ہیں۔
یہ بات کون سے رویوں سے ثابت ہوگی؟
یہ کے ماں باپ اس کے لیے صبح سے رات تک زحمتیں اٹھائیں، ان کی اولاد سے محبت ثابت ہوگی؟؟
نہیں۔۔!
بچے کو یہ سب سمجھ نہیں آتا۔
وہ دیکھتا ہے کہ ماں باپ اس کے ساتھ کتنا خوش اخلاق ہیں۔ کتنا اچھا رویہ رکھتے ہیں۔
گھر والدین بچے کے ساتھ کھیلیں، اس کے لیے وقت نکالیں (کبھی کم کبھی زیادہ)، اس کے ساتھ باتیں کریں، اس سے باتیں کروائیں، مل کے ہنسیں اور اس کو مزا دلائیں۔
ایک بات واضح ہو۔ مزا دلانے سے یہ مراد نہیں کہ بہت سارا خرچ کریں۔
نہیں۔۔!
بعض والدین اولاد پہ اتنا خرچ کرنے کے باوجود بھی ان کی اس ضرورت کو برطرف نہیں کر پاتے جبکہ بعض والدین کم ترین آسائش کے ساتھ بھی اس احساس کو اپنے اولاد میں منتقل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ ہم تمہیں بہت چاہتے ہیں اور بچہ یہ محسوس کرتا ہے کہ میں اپنے والدین کا عزیز ہوں کیونکہ یہ خرچ کرنے پہ نہیں بلکہ ہمارے رویوں پر ہے کہ ہم کتنا بچوں کے ساتھ بچہ بنتے ہیں اور اس کی بچپن کی دنیا کو درک کرتے ہیں۔


































