
اسلام آباد : پاکستان میں تنازع کی وجہ بننے والا امریکی ڈپلو میٹک سائفر وزیراعظم ہاؤس سے غائب ہوگیا، سائفر کے غائب ہونے کا انکشاف وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں ہوا۔ اجلاس میں آڈیوز لیکس کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اور ڈپلومیٹک سائفر سے متعلق آڈیوز کی تحقیقات کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔اجلاس میں کہا گیا کہ ایک ڈپلومیٹک سائفر کو من گھڑت معنی دے کر سیاسی مفادات کی خاطر کلیدی قومی مفادات کا قتل کیا گیا۔ آڈیو لیکس کے تناظر میں فیصلہ کیا گیا کہ اب کسی کو وزیر اعظم ہاؤس میں موبائل فون اور لیپ ٹاپ لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے تسلیم کرلیا کہ سائفر ایک حقیقت ہے، وزیراعظم ہاؤس سے دستاویز کا غائب اور باتیں ریکارڈ ہو جانا سیکیورٹی لیپس ہیں، اس کی تحقیقات ہونی چاہیے، یہ ایک گھبرائی ہوئی حکومت کی کارستانیاں ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا: ’آڈیو لیکس حکومت کا اپنا ایجنڈا ہے۔ حکومت اپنی آڈیو لیکس سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کے غیر محفوظ ہونے سے توجہ ہٹانے کے لیے شوشہ چھوڑ جا رہا ہے۔ پریشان ہوں کہ وزیراعظم ہاؤس سے دستاویز کیسےغائب ہوگیا‘۔


































