
جنیوا : اقوام متحدہ کی کمیٹی نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت سے متعلق نیا قانون فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اقوام متحدہ کی نسل پرستی کے خاتمے سے متعلق کمیٹی نے اسرائیل کے حالیہ قانون پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہاہےکہ یہ قانون انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور نسلی امتیاز کو فروغ دیتا ہے۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ یہ عدالتیں صرف مقبوضہ علاقوں کے فلسطینیوں پر لاگو ہوتی ہیں جبکہ اسرائیلی شہری اس سے مستثنیٰ ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ قانون میں سزا میں نرمی، معافی یا تبدیلی کی گنجائش نہیں اور فیصلے کے بعد 90 دن میں عملدرآمد لازم قرار دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ امتیازی پالیسیوں کا خاتمہ کرے اور فلسطینی قیدیوں کو مساوی قانونی تحفظ فراہم کرے۔


































