
بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر سنبھل میں مسجد کو مندر قرار دینے کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے۔ پولیس نے فائرنگ کرکے پانچ مسلمانوں کو شہید کردیا۔ جھڑپوں میں تیس اہلکاروں سمیت کوئی افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس نے بیس سے زائد مسلمانوں کو گرفتار بھی کرلیا۔ سنبھل شہر میں ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب عدالت کے حکم پر ایک سروے ٹیم جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے جامع مسجد پہنچی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ سینکڑوں افراد مسجد کے باہر جمع ہوگئے اور انہوں نے پولیس کو مسجد میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ پولیس کے یکطرفہ دعویٰ کے مطابق ہجوم میں سے کچھ لوگوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور دس سے زائد گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔ پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ اور گولیاں چلائیں۔ تشدد کے واقعات میں پانچ مسلمان شہید اور پولیس اہلکاروں سمیت تیس سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ مرنیوالوں میں نعمان، بلال انصاری۔ محمد کیف اور نعیم شامل ہیں۔ پولیس نے دو خواتین سمیت کئی مسلمانوں کو گرفتار کرلیا ہے۔علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ انٹرنیٹ اور اسکولوں کو بند کردیا گیا ہے۔ شہر میں رفاحی یا کسی اور تنظیم کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔
علاقے کے سماج وادی پارٹی رکنِ پارلیمنٹ ضیاالرحمٰن برق کے خلاف ایف آئی درج کرلی گئی ہے۔ جمعیت علمائے ہند کےصدر مولانا محمود اسعد مدنی نے سنبھل واقعہ یوپی حکومت کی تفریق پر مبنی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیت علماء ہند نے پہلے بھی خبردار کیا تھا کہ جو لوگ مسجدوں میں مندر تلاش کرتے پھر رہے ہیں وہ درحقیقت ملک کے امن وامان کے دشمن ہیں۔


































