
جدہ: اسلامی تعاون تنظیم نے اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر کے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں عبادت گاہ قائم کرنے کے مطالبے کی مذمت کی ہے۔ او آئی سی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انتہا پسند وزیر کے بیانات اور مسجد اقصیٰ کی مسلسل بے حرمتی ناقابل قبول اور جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے.او آئی سی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ القدس کا شہر 1967 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا ایک اٹوٹ حصہ اور ریاست فلسطین کا دارالحکومت ہے، او آئی سی نے کہاکہ قابض اسرائیلی حکومت کی طرف سے کیے گئے تمام فیصلے اور اقدامات کا مقصد مقبوضہ شہر القدس کو یہودیت میں رنگناہے۔ جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اتمار بین گوور کے بیان کی قطر اور اردن کی جانب سے شدید مذمت کی گئی تھی۔ سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اسرائیلی وزیر کا بیان قابل مذمت ہے۔ جس سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق بین گوور کے بیانات سے مسلم دنیا میں اضطراب بڑھ رہا ہے۔


































