
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں شہریوں پر مقدمات نہیں چلائے جاسکتے۔ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ حکومت نے کیس میں فل کورٹ بنانے کی درخواست دی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ فل کورٹ اس وقت بنانا ناممکن ہے۔تین ججز نے کیس سننے سے معذرت کی ہے ۔ جسٹس اطہر من اللّٰہ ملک سے باہر ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لیاقت حسین کیس میں کہا گیا تھا کہ ملٹری اتھارٹیز تحقیقات کرسکتی ہیں سویلین کا ٹرائل نہیں۔ سویلینز کا ایسا ٹرائل نہیں ہوسکتا جو آئین کے مطابق نہ ہو۔ اس ملک کے ہر شہری کو یہ تشویش ہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں عدلیہ کی آزادی کا سوال ہے ، فوجی عدالتوں کے فیصلوں میں وجوہات نہیں بتائی جاتیں۔ فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کے دوران عام شہریوں کو رسائی نہیں ہوتی۔


































