
نیویارک : چین اور روس نے ایران کیخلاف سلامتی کونسل میں نئی قرارداد کو ویٹو کرنے کا اشارہ دے دیا۔ جبکہ ایران نے کہاہےکہ قرارداد حقائق مسخ کرنیکی کوشش ہے۔ امریکا اور بحرین نے دیگر خلیجی ممالک کے تعاون سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی سے متعلق قرارداد پیش کی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق قرارداد میں ایران پر ممکنہ پابندیوں کا اشارہ دیا گیا ہے جس پر روس اور چین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ مسودے میں جنگ شروع کرنے پر امریکا اور اسرائیل کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ قرارداد کو ووٹنگ کے لیے کب پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ماسکو اور بیجنگ نے سلامتی کونسل کے ارکان کو آگاہ کیا ہے کہ موجودہ متن کے ساتھ وہ اس قرارداد کو ویٹو کریں گے۔
ادھر ایرانی عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس، چینی ہم منصب وانگ یی، اقوام متحدہ میں چین کے مندوب فو کانگ اور دیگر رکن ممالک کو خط ارسال کیا ہے۔۔ خط میں انہوں نے انہوں نے لکھا کہ قرارداد میں کشیدگی کی اصل وجہ یعنی امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ قرارداد خلیج میں غیر قانونی اقدامات کو جواز دینے کے مترادف ہے۔


































