
لندن : برطانیہ کے دارالعوام نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور بھارتی فورسز کے جعلی مقابلوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن سے جواب طلب کرلیا۔ پارلیمنٹ کے 28 اراکین نے مشترکہ خط میں بھارتی ہائی کمیشن کو لکھا کہ بھارتی فورسز بے گناہ کشمیریوں کو دہشت گرد بنا کر جعلی مقابلوں میں ماردیتی ہیں سماجی کارکن خرم پرویز کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالا گیا ہے۔ خرم پرویز کی گرفتاری کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھایا گیا ہے۔ خرم پرویز کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جائیں اور معاملے کی شفاف انداز میں تحقیقات کی جائیں۔ارکان پارلیمنٹ نے لکھا کہ خرم پرویز دہشت گرد نہیں بلکہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والا ہے۔بھارت کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے اہلکاروں نے سماجی کارکن خرم پرویز کو سری نگر سے 22 نومبر کو گرفتار کیا تھا۔ان کا موبائل فون، لیپ ٹاپ اور چند کتابیں بھی قبضے میں لے لی تھیں اور کہا تھا کہ یہ دہشت گردی کا کیس ہے، بعد ازاں خرم پرویز کی اہلیہ نے صحافیوں کو ساری صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔


































