
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
سعودی حکومت نے رمضان المبارک کے دوران سعودی میڈیا پر نماز کی نشریات دکھانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی وزارت مذہبی امور نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے فیصلہ کیا ہے کہ مساجد بالخصوص مکہ و مدینہ میں لگے کیمروں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران امام اور نمازیوں کی تصاویر اور فلم نشر کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور میڈیا میں کسی بھی طرح سے نماز کی کوریج و نشر و اشاعت نہیں کی جائے گی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ سال میں اس طرح کا مذہب مخالف فیصلہ کیا گیا ہو۔ گذشتہ جون میں سعودی وزیر برائے مذہبی امور نے تمام سعودی مساجد کو حکم دیا تھا کہ وہ اذان کے وقت اپنے لاؤڈ سپیکر کی آواز صرف مسجد کے اندر تک کم کر دیں۔ دریں اثناء، سعودی مساجد کو صرف اذان نشر کرنے کی اجازت تھی اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے قرآن کی تلاوت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے سعودی وزیر برائے مذہبی امور نے دعویٰ کیا تھا کہ مساجد کی اونچی آواز سے بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کو تکلیف ہوتی ہے۔
سعودی وزارت مذہبی امور نے اب ایک اور حکم نامہ جاری کرتے ہوئے میڈیا پر نماز دکھانے کی پابندی عائد کر دی ہے، تاکہ اس کی مذہب مخالف پالیسیاں جاری رہ سکیں۔ اسی طرح گذشتہ دو سالوں میں سعودی حکومت نے کورونا پھیلنے کا بہانہ بنا کر عازمین حج کے لیے غیر معمولی سخت قوانین نافذ کیے ہیں۔ سعودی حکومت کی یہ پالیسیاں اور رویئے وہ نسخے لگتے ہیں، جو محمد بن سلمان سعودی معاشرے کو جدید بنانے اور دینی روایات سے دور رہنے کے لیے بنا رہے ہیں۔ درحقیقت سعودی ولی عہد نہ صرف سعودی مفتیوں اور علماء کے خلاف برسرپیکار ہیں بلکہ سعودی معاشرے کے دل میں مذہب کو محدود کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ اس سے قبل محمد بن سلمان نے سعودی معاشرے میں کئی پرانے قوانین کو ختم کیا ہے، جسے انہوں نے سماجی اصلاحات کا نام دیا تھا۔ ان میں مغرب کی فاحشہ خواتین گلوکاروں کے ساتھ کنسرٹ کا انعقاد اور خواتین کے رقص کی تقریبات کا انعقاد بھی شامل ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ اقدامات 2030ء دستاویز کے ویژن کے مطابق انجام دیئے جا رہے ہیں، جس کے بارے میں بن سلمان کا دعویٰ ہے کہ اس سے سعودی عرب کو جدید بنا کر ایک ماڈرن ریاست میں بدل دیا جائے گا۔
تاہم بن سلمان کے ان اقدامات سے سعودی معاشرے کا تشخص بتدریج بدل رہا ہے اور اس ملک کے اقتداری ڈھانچے میں مذہب اور مذہبی لوگوں کو کم کیا جا رہا ہے۔ سعودی نیوز سائٹ سعودی لِیکس نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بن سلمان 2030ء ویژن کے تناظر میں روایتی سعودی معاشرے کو سیکولر بنانے اور ملک کی دینی شناخت کو بتدریج تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ اسی مناسبت سے، سعودی کابینہ کے ساتھ ایک میٹنگ میں، محمد بن سلمان نے سعودی وزارت اسلامی امور سمیت دیگر وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ سعودی عرب میں "فکری رواداری” منصوبے کو تیار کریں۔ 2030ء کی دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ علماء اور مذہبی رہنماؤں کے لئے ضروری ہے کہ وہ سماجی رویوں میں خواتین کی آزادی کے معاملے کی وضاحت کریں، نیز اہل کتاب کے ساتھ برتاؤ میں سماجی رواداری نیز سیکولرازم، موسیقی، جشن اور مغربی فیلموں کے لیے قوانین ختم کر دیں۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ بن سلمان کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات کا مقصد سعودی عرب میں انتہاء پسندی کا مقابلہ کرنا ہے۔ تاہم بن سلمان کی پالیسیاں، خاص طور پر اپنے خاندانی حریفوں اور سعودی سیاسی کارکنوں کے تئیں ان کی سیاست انتہاء پسندی کی انتہاء پر ہے، جس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں ان پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب پر پابندی لگا کر بن سلمان سعودی عرب کے اندر اور بیرون ملک اپنا ایک نیا امیج بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ مذہب پر پابندی لگانے سے سعودی معاشرہ ترقی پسند معاشرہ بن جائے گا۔ ناقدین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سعودی عرب میں شناخت کا بحران پیدا ہوگا اور عملی طور پر نوجوان ولی عہد کی طاقت کی بنیاد مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہوگی۔
بن سلمان کے ان فیصلوں سے ملک کے اندر جو ہونا ہے، وہ بھی جلد یا بدیر سامنے آجائیگا، لیکن ملک سے باہر بالخصوص پاکستان جیسے ممالک میں ان دینی حلقوں کا ردعمل بہت دلچسپی کا حامل ہوسکتا ہے، جو آل سعود کو اپنا دینی قبلہ تصور کرتے تھے۔ تکفیری حلقے نیز مذہبی انتہاء پسندی پر گامزن پاکستان کا ایک بڑا حلقہ آل سعود اور ان کے نظریات کو اپنے لئے اسوہ مبارک سمجھتا تھا، ان کے لئے یقیناً سخت امتحان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ بن سلمان کے دین مخالف ان اقدامات پر منفی ردعمل دکھاتے ہیں یا ماضی کی اس تاریخ کو دہراتے ہیں، جس میں نامی گرامی مفتیوں نے نواسہ رسول (ص) کے قتل کے فتوے پر خاموشی اختیار کی تھی۔ کہتے ہیں کہ 61 ہجری میں سونے کی اشرفیاں حق سے دوری کا باعث بنی تھیں، اب یہی کام سعودی ریالوں اور پیٹرو ڈالر سے لیا جائیگا۔


































