
بیروت : حماس کے سینئر رہنما سمیع ابوزہری نے کہاہے کہ مجوزہ جنگ بندی معاہدہ اتنا پختہ عزم فراہم نہیں کرتا ہے جس سے جنگ ختم ہوجائے گی۔ سمیع ابوزہری نے کہا کہ حماس بائیڈن کی تجویز کا خیرمقدم کرتی ہے لیکن اس معاہدے میں جارحیت کے خاتمے یا انخلاء کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ہم نے ثالثوں کو بتایا تھا کہ ایسا کاغذ ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کسی ڈیڈ لائن کے بغیر مذاکرات کی بات کررہا ہے۔ وہ کھلے عام یرغمالیوں کی واپسی کے بعد جنگ جاری رکھنے کا کہہ رہا ہے۔ ایسی صورت میں معاہدہ کیسے ممکن ہے۔
ادھر حماس نے ایک بیان میں اسپین کے اسرائل کیخلاف نسل کشی مقدمے میں فریق بننے کا خیرمقدم کیا ہے۔ حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ عمل استغاثہ کو تقویت دے گا۔ ہم دنیا بھر کے ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مجرم صیہونی ادارے کے خلاف دائر مقدمے میں شامل ہو جائیں۔


































