
تحریر: حسین علی مخلص
کرتا رہا مظلوم کی ہر آن حمایت
ظالم سے رہی دل میں مظفر کے عداوت
بے خوف بنا ڈالا اسے خوفِ خدا نے
جرات سے تمام عمر رہی اس کی عبارت
اک دن بھی پشیماں نہ ہوا اپنے کئے پر
قدرت نے عطا کی تھی اسے خوب فراست
راضی رہا تا مرگ و ہ قدرت کی رضا پر
لایا نہ لبوں پر وہ کبھی لفظِ شکایت
سائل کا سوال اس نے کیا رد نہ کبھی بھی
ممکن ہوا جس طور سے کی اس نے سخاوت
خاطر میں وہ لایا نہ کسی خوف و خطر کو
طاغوت کی ہر گام پہ کی اس نے مذمت
مومن کی شہادت کی خبر پاتا ہوں جب بھی
چھا جاتی ہے نظروں میں مظفر کی شہادت
ہے فرض یہ ہم پر بھی بنیں ہم بھی مظفر
کرتی ہے تقاضا یہی دشمن کی عداوت
ہے مجھ کو یقیں، رب کو پسند آئے گی کاوش
مخلص نے کی مخلص سے اک انسان کی مدحت


































