
ڈھاکا: بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے ہندوستان میں پناہ گزین سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو وطن واپس لانے پر غور شروع کر دیا ہے۔عبوری حکومت کے وزیر اور طلبہ تحریک کے مرکزی رہنما ناہید اسلام نے کہا ہے کہ معزول وزیرِ اعظم شیخ حسینہ وطن واپس آئیں اور مقدمات کا سامنا کریں۔ میں حیران ہوں کہ وہ ملک سے کیوں فرار ہوئیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز سے انٹریو میں ناہید اسلام نے کہاکہ ہم شیخ حسینہ کے دور میں ہلاکتوں پر انصاف چاہتے ہیں۔ اگر شیخ حسینہ وطن واپس نہ آئیں تو ہم انہیں وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کریں گے۔ ادھر شیخ حسینہ کے امریکا میں مقیم صاحبزادے سجیب واجد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی والدہ نے ملک چھوڑنے سے قبل استعفیٰ نہیں دیا تھا اور وہ الیکشن کا اعلان ہوتے ہی وطن واپس چلی جائیں گی۔ ادھر طلبا کے الٹی میٹم کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ عبید الحسن نے استعفی دے دیا ہے۔ طلبا نے فل کورٹ کا اجلاس بلانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ عدالت کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا اور چیف جسٹس سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا۔ تاہم طلبا نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک سپریم کورٹ کے باقی جج بھی مستعفی نہیں ہوجاتے۔


































