
ڈھاکا : بنگلا دیش میں طلبہ نے حکومت کو مطالبات کی منظوری کے لیے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا۔ عدالت نے گذشتہ روز علیحدگی کی تحریک میں حصہ لینے والوں کے خاندانوں کا سرکاری ملازمتوں میں 30 فیصد کوٹا بحال کرنے کا ہائیکورٹ کا حکم معطل کرکے کوٹا 7 فیصد تک محدود کر دیا تھا۔ تاہم احتجاج کرنے والے طلبا نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار مظاہرین کو فوری رہا کیا جائے، کرفیو اٹھایا جائے، جامعات کھولی جائیں۔
ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر فوج تعینات اور کرفیو نافذ ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق کرفیو میں دوپہر کے اوقات میں 3 گھنٹوں کے لیے نرمی کی جائےگی گزشتہ ایک ہفتے سے جاری مظاہروں میں اب تک 151 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔


































