
مناما : بحرین کے علماء نے ملک میں شیعہ برادری کے خلاف جاری کریک ڈاؤن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی اسلامی اداروں، مراجعِ کرام اور دینی مدارس سے فوری کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ علما نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ بحرین میں شیعہ مسلمانوں اور ان کی مذہبی شناخت کو وجودی خطرات لاحق ہیں۔ بیان کے مطابق حالیہ دنوں میں سینئر شیعہ علما اور فقہا کی گرفتاریاں کی گئی ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیاں دینی تعلیمات اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھیں۔ بحرینی علما نے کہا کہ ان گرفتاریوں کا اصل مقصد دینی سرگرمیوں کو مفلوج کرنا، مذہبی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور معاشرے میں روحانی خلا پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدامات اچانک نہیں بلکہ ایک منظم منصوبے کا حصہ ہیں، جس کا مقصد شیعہ برادری کے علمی اور سماجی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔ علما نے بحرینی حکام کی جانب سے زیرِ حراست افراد پر لگائے گئے الزامات کو من گھڑت قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ان کی اپیل سیاسی مقاصد نہیں بلکہ دینی اور قانونی ذمہ داری کے تحت کی جا رہی ہے۔ علما کے مطابق منامہ حکومت شیعہ مذہبی شناخت کو خطرہ سمجھتی ہے جبکہ حالیہ امریکا اسرائیل جنگ کے بعد ایران کے خلاف کشیدگی کے تناظر میں بحرین میں سخت اقدامات مزید بڑھا دیے گئے ہیں۔


































