
اسلام آباد: آڈیو لیکس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے کارروائی کا آغاز کر دیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کیے گئے 3 رکنی کمیشن میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نعیم اختر افغان بھی شامل ہیں۔ آڈیولیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ کوئی حساس معاملہ سامنے آیا تو اِن کیمرہ کارروائی کی درخواست کا جائزہ لیں گے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو کمیشن کے لیے آج ہی موبائل فون اور سم فراہم کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے لیے فراہم کردہ فون نمبر پبلک کیا جائے گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آڈیو لیکس کی تصدیق کے لیے پنجاب فارنزک ایجنسی سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، اگر کوئی شخص کہے کہ آڈیو میں آواز ان کی نہیں یا ٹیمپرڈ ہے تو اس کی تصدیق پہلے سے کرنا ہو گی، فارنزک ایجنسی کا ایک رکن کمیشن کی کارروائی میں موجود ہو تاکہ اگر کوئی شخص انکار کرے تو فوری تصدیق ہو، انکوائری کمیشن کسی جج کے خلاف کوئی کارروائی کر رہا ہے نہ کرے گا، کمیشن صرف حقائق کے تعین کے لیے قائم کیا گیا ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں ہو گی، تمام گواہوں کی ناصرف عزت کریں گے بلکہ جواب میں عزت کی توقع بھی کرتے ہیں، کمیشن کو اختیار ہے کہ تعاون نہ کرنے والوں کے سمن جاری کر سکے، کمیشن صرف نوٹس جاری کرے گا، کوشش ہو گی کسی کے سمن جاری نہ ہوں، حکومتی افسران کے پاس پہلے ہی انکار کی گنجائش نہیں ہوتی، عوام سے معلومات کی فراہمی کے لیے اشتہار جاری کیا جائے گا، کمیشن کی کارروائی ہفتے کے روز ہو گی۔


































