
تہران : ولی امر المسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ دشمن ایران کے خلاف کثیر الجہتی جنگ میں مصروف ہے۔ انہوں نے دشمن کی اقتصادی، سیاسی، سیکیورٹی ، میڈیا اور سفارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائبرڈ ردعمل کی ضرورت پرزور دیا ۔ ایرانی فضائيہ کے بعض افسروں اور اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ اسلامی نظام کے انقلابی اور حماسی اقدامات کو تحریف اور مسخ سے بچانے اور دشمن کے مشترکہ حملوں کا جواب دینے کے لیے مشترکہ دفاعی اقدام کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں جہادکی تشریح اورتوضیح بہت ہی اہم فریضہ ہے۔ ایرانی فضائیہ کے افسروں اور اہلکاروں نے امریکا اور اسرائیل کے اندازوں اور محاسبات کوغلط ثابت کردیا اور امریکہ کو ایسی جگہ سے مہلک چوٹ پہنچی جس کا اسے تصور بھی نہیں تھا۔ اسلامی محاذ کے سپاہی عسکری، سائنسی، تحقیقاتی ، علمی اور دیگر میدانوں میں اپنی مؤثر اور فعال سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھیں اور دشمن کے رعب و دبدبے سے خوف و ہراس میں مبتلا نہ ہوں تو یقینی طور پر دشمن کے تمام اندازے اور محاسبات غلط ثابت ہوجائيں گے۔ امریکا کو آج بھی ایسی جگہ سے مہلک چوٹ پہنچ رہی ہے جس کا پہلے تصور بھی نہیں تھا یعنی امریکہ کے موجودہ اور سابقہ صدر نے امریکہ کی باقیماندہ آبرو کو بھی ختم کردیا ہے۔ آپ نے دشمن کے مشترکہ اقتصادی، سیاسی، ثقافتی، تبلیغاتی اور سفارتی حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ہمیں دشمن کے مختلف میدانوں میں مشترکہ حملوں کا صرف دفاع نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان مشترکہ حملوں کا مشترکہ حملوں کے ذریعہ منہ توڑ اور بھر پور جواب دینا چاہیے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایران کی مختلف میدانوں میں شاندار کامیابیاں دشمنوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہی ہیں کیونکہ ایران نے دشمن کے ارادوں کے بر عکس ترقی کی ہے اور ایران کی موجودہ ترقی اور پیشرفت کا تسلسل ایران کے مستقبل کے درخشاں اور تابناک ہونے کا مظہر ہے۔


































