
قم المقدسہ میں نمائندہ قائد ملت جعفریہ پاکستان و مدیر دفتر علامہ شیخ بشارت زاہدی نے کابل میں مشہور و معروف تعلیمی و مذہبی مرکز "جامعہ خاتم النبیین (ص)” پر طالبان حکام کی جانب سے دھاوا، ملازمین و مدرسین کی گرفتاریاں اور بلاجواز تشدد کو انتہائی تشویشناک، افسوسناک اور بنیادی مذہبی و انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب افغانستان کو تمام مکاتبِ فکر کے مابین اتحاد، رواداری اور استقامت کی سخت ضرورت ہے، ایک علمی اور مذہبی ادارے کے تقدس کو پامال کرنا، وہاں موجود افراد کو ہراساں کرنا اور بلاجواز گرفتاریوں و تشدد کا نشانہ بنانا نہ صرف افغان عوام کی مذہبی آزادیاں سلب کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے خطے میں مزید ناامنی اور بے چینی پھیلے گی۔
ہم بین الاقوامی سطح پر قائم انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے اداروں، بشمول اقوامِ متحدہ (UN)، اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن (UNHRC) اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے فوری اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس سنگین ناانصافی کا نوٹس لیں، واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور گرفتار شدہ بے گناہ افراد کی فوری اور بلا مشروط رہائی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ افغانستان کی موجودہ حکومت کو یہ یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ جبر، ناانصافی اور مذہبی مراکز کی پامالی سے کوئی ریاست قائم نہیں رہ سکتی۔ افغان حکام فوری طور پر ایسے غلط، متعصبانہ اور ستم ظریفانہ اقدامات سے گریز کریں، علم و ہدایت کے سرچشموں کا احترام بحال کریں اور تمام شہریوں کے بنیادی اور قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔


































