
واشنگٹن : امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو خط لکھ کر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کی مسلح کشیدگی ختم ہو گئی ہے۔ کانگریس کے اسپیکر مائیک جونسن اور سینیٹ کے صدر چک گراسلی کے نام خط میں ٹرمپ نے لکھا کہ ایران کے ساتھ جاری جھڑپیں ختم ہو چکی ہیں اور جنگی صورتحال کا اختتام ہو گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق سات اپریل سے جنگ بندی برقرار ہے اور اس کے بعد کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا۔ خط میں کہا گیا کہ یہ اقدامات امریکا اور اس کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیے گئے۔ امریکی صدر کے مطابق موجودہ صورتحال میں کانگریس سے منظوری کے لیے دی گئی ساٹھ روزہ مدت کا اطلاق اب نہیں ہوتا۔
یہ خط ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کو 60 دن مکمل ہو چکے ہیں اور ’وار پاورز ایکٹ 1973‘ کے تحت صدر کے لیے 60 دن کے اندر کانگریس سے منظوری لینا لازمی تھا۔
وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وار پاورز ایکٹ کو مکمل طور پر غیر آئینی قرار دیا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں کانگریس سے اس فوجی مہم کی منظوری لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ پہلے کبھی کسی نے ایسی اجازت نہیں مانگی، تو ہم کیوں الگ ہوں؟۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس اور قانونی ماہرین نے صدر کے اس موقف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے اسے ایک ’غیر قانونی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب بکواس ہے، ریپبلکنز اس غیر قانونی عمل میں شریک ہیں جس سے روزانہ جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں اور عوام پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ سینیٹ کی مسلح خدمات کمیٹی کی رکن جین شاہین نے کہا کہ ٹرمپ کا اعلان حقیقت کے برعکس ہے کیونکہ ہمارے ہزاروں فوجی اب بھی خطرے میں ہیں اور آبنائے ہرمز کی بندش سے قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم ’اے سی ایل یو‘ نے بھی وائٹ ہاؤس کو خط لکھ کر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ صدر ایک غیر قانونی جنگ چلا رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق وار پاورز ریزولوشن میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ جنگ بندی کے دوران جنگ کا وقت روک دیا جائے یا اسے دوبارہ صفر سے شروع کیا جائے۔
اس کے برعکس وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ میں گواہی دیتے ہوئے صدر کے مؤقف کی تائید کی کہ سیز فائر کی صورت میں 60 دن کی گھڑی رک جاتی ہے۔


































