
تحریر: ارشاد حسین ناصر
اربعین امام حسین علیہ السلام و شہدائے کربلا کیلئے دنیا بھر سے زائرین ابا عبداللہ الحسین (ع) سال بھر انتظار کرتے ہیں، بعض تو عمر بھر انتظار کرتے ہیں اور انہیں مشکلات، رکاوٹوں اور مسائل سے واسطہ رہ جاتا ہے اور تڑپ لے کر اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں، بہرحال یوم اربعین پر کربلا میں بین الحرمین میں خود کو پہنچانے کی خواہش اور تمنا ہر ایک حسینی کو ہوتی ہے، جو لوگ اس سعادت سے سرفراز ہوتے ہیں ان کی خوش بختی اور قسمت پہ رشک کیا جاتا ہے، پاکستان سے بھی لاکھوں لوگ اس سفر عشق و عقیدت کے مسافر ہوتے ہیں، جتنی مشکلات، مسائل اور رکاوٹیں پاکستانی برداشت کرتے ہیں شاید ہی کسی اور ملک کے باشندے برداشت کرتے ہونگے۔
ویزوں کے مسائل، گاڑیوں کے ایشوز، بائی ائر ٹکٹس کے ایشوز، راستوں کے مسائل، سیکیورٹی کے نام پہ لوٹ مار اور بسز کے کرایوں میں من مانیاں، راستوں میں چیک پوسٹوں پہ وصول کیا جانے والا بھتہ، مسافروں کیلئے سہولیات کی عدم فراہمی، تفتان بارڈر پہ پاکستانی عملے کی متعصبانہ روش، بے تکے سوال و جواب، عراق بارڈر کے مسائل، الغرض اتنا کچھ دیکھنے کو ملتا ہے کہ کئی مضامین لکھے جا سکتے ہیں، اس تمام کے باوجود جب زائرین عشق و عقیدت نجف اشرف پہنچ جاتے ہیں تو قلبی اطمینان اور ذہنی سکون مل جاتا ہے کہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب (ع) کی بارگاہ میں حاضری ہوگئی۔
ہم بھی کرونا 2019ء کے بعد اس سال اس سفر عشق و عقیدت کیلئے کمر کسے نجف اشرف پہنچے، نجف اشرف میں روضہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب (ع) پہ حاضری دی، رش ایسا کہ الامان، یہاں ہر آنے والے کی خواہش ہوتی ہے کہ کم از کم مولا (ع) کی ضریح اقدس کا بوسہ لے اور مس کرے مگر کار خیلی مشکل، ہر ایک کے بس کی بات نہیں، خیر ہم نے تو اس کی سعادت حاصل کی، اس کے بعد وادی السلام کی زیارات کیں اور نجف سے کربلا پیادہ روی کا آغاز کیا، گرمی ایسی کی زبان خشک، آنکھیں باہر نکل آئیں، نجف کا 41 درجہ حرارت جو پچاس لگ رہا تھا۔ ہم بھی لاکھوں لوگوں کیساتھ شاہراہ جنت، طریق الجنتہ، وادی السلام سے نکل کے نجف کے نواحی ٹاؤنز حی الرحمۃ، ابوطالب، طریق الجنتہ سے ہوتے اور اہل عراق کی میزبانی کا لطف اٹھاتے جانب منزل رواں دواں تھے۔
شدید گرم موسم کے باعث میرا خیال تھا کہ لوگ رات یا بعد از فجر مشی کریں گے مگر مجھے نارمل ایام اور آج 41 درجہ حرارت میں کوئی فرق نہیں لگ رہا تھا، لوگ چلے جا رہے تھے، موسم کی شدید حدت، کا احساس کرتے ہوئے اہل عراق جو میزبان ہیں نے کمال کر دیا ہے، بہت بڑے بڑے کولرز، گلیوں میں ہوا کیساتھ پانی پھینکنے والے پنکھے، شاور، سخت گرم موسم کے باوجود زائرین کمبل لے کے آرام فرما، جبکہ کئی قسم کے ٹھنڈے مشروبات جو گرمی کے اثر کو زائل کر دیتے ہیں اس قدر وسیع اہتمام، پکڑ پکڑ کے آوازیں دے کر پلا رہے ہیں، ہم کربلا کو آنکھوں میں سجائے جانب بہشت، شاہراہ جنت پہ کارواں در کارواں چل رہے تھے، کاروان کا کوئی ساتھی وقتی طور پہ بچھڑ بھی جائے تو کوئی پرواہ نہیں، در بہشت کربلا پہ ملاقات ہوجائے گی۔
اہل عراق عشاقان امام و زواران کربلا کے بہت اچھے میزبان ہیں بلکہ بے مثال میزبان ہیں، عجیب قوم ہے، اپنے گھروں کے دروازے کھول دیئے ہیں، لکھا ہے امام کے زائرین سستا سکتے ہیں، آرام فرما سکتے ہیں، نماز باجماعت، کھانا اور طہارت کا انتظام ہے۔ برکات امام حسین (ع) کیلئے ہمارے گھر سے ایک گھونٹ پانی نوش فرما لیں، اس قدر اپنائیت قریبی ترین رشتہ داروں بلکہ خونی رشتہ داروں سے بھی نہیں ہوتی جتنی اہل عراق سے ہوتی ہے، کوئی جھجھک نہیں۔ نجف روضہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب (ع) سے پیادہ روی شروع کرکے مرکزی شاہراہ جسے طریق النجف کہتے ہیں تک مختلف محلوں سے ہوتے ہوئے پہنچیں تو عمود، پول، نمبرز شروع ہوتے ہیں۔
پولز پہ شہداء بالخصوص مدافعان حرم کی تصاویر آویزاں ہیں، سب سے پہلے چھ نمبر پول پر شہید القدس قاسم سلیمانی کی دیدہ زیب تصویر لگی ہے، یہ کل 1452 عمود ہیں، 1452 نمبر پول مولا غازی عباس علمدار (ع) کے روضہ کے سامنے آتا ہے، اس شاہراہ کے دونوں طرف موکب لگے ہیں جن میں دنیا کے ہر قسم کے کھانے پیش کئے جاتے ہیں، ناقابل یقین، حیرت ذدہ کر دینے والے مناظر۔ یہاں پہنچ کے یہ دعا زبان پہ ہے کہ مولا ہر ایک تڑپ رکھنے والے کو شاہراہ بہشت پہ چلنے کی سعادت سے بہرہ مند فرما۔ اہل عراق جتنی خدمت یہاں کرتے ہیں، جتنی عزت دیتے ہیں، جتنا مقام و مرتبہ اور اہمیت دیتے ہیں وہ بے مثال ہے، ہم کوشش کرکے بھی اس احساس کو منتقل نہیں کر سکتے۔
ہر قدم ہدیہ امام زمان (عج)


































