
نیویارک: چھ عرب ممالک نے اقوام متحدہ کو خط لکھ کر آبنائے ہرمز پر ایرانی قوانین کو مسترد کردیا اور لکھا کہ کوئی ملک یک طرفہ قوانین مسلط نہیں کرسکتا۔ بحرین، کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن نے اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس اور اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کونگ کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا ہے. جس میں آبنائے ہرمز کے نئے قواعد اور دیگر اقدامات کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ علاقائی ممالک کی خودمختاری اور ان کے سیکیورٹی و بین الاقوامی شراکت داری کے فیصلوں کے خلاف ہے۔
خط میں آبنائے ہرمز پر انتظامی دعوؤں سے دستبرداری، اسے غیر مشروط طور پر کھولنے اور نقصانات کے معاوضے سمیت 6 مطالبات کیے گئے ہیں۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تہران کسی بھی یکطرفہ کنٹرول یا دھمکی کے دعوے سے دستبردار ہو اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ جہاز رانی پر فیس عائد کرنے یا بارودی سرنگیں بچھانے جیسے اقدامات عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔


































