
صیہونی حکومت کے خلاف تل ابیب میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ تل ابیب میں کئے گئے مظاہرے میں خواتین کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کے دوران فورسز نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی پولیس تشدد کی علامت ہے اور انتشار پھیلا رہی ہے۔
دوسری جانب فلسطین کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے واشنگٹن اور نیویارک میں مظاہرے کئے اور امریکہ اور صیہونی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی مذمت کی ہے۔ ہفتے کی شام تقریباً 400 مظاہرین نے واشنگٹن کے نیشنل مال پبلک پارک میں احتجاج کیا اور غزہ کے خلاف اسرائیلی جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین "ہتھیائی ہوئی زمین میں امن نہیں ہوگا”، "قتل عام بند کرو”، "جرم بند کرو” اور "اسرائیل کو فلسطین سے نکال دو” جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ مظاہرین نے امریکی صدر جو بائیڈن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر الزام لگایا کہ وہ غزہ جنگ میں انسانی جانوں کے بارے میں فکر مند ہونے کا جھوٹا اظہار کر رہے ہیں۔
ادھر اطلاعات ہیں کہ نیویارک شہر کے علاقے بروکلین میں فلسطین کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والے سینکڑوں افراد پر پولیس نے حملہ کردیا ۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق پولیس نے فلسطین کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والے درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ ویانا، برلن، پیرس اور جنیوا سیمت یورپی ملکوں کے متعدد شہروں سے بھی ایسے ہی مظاہروں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔


































