شیعہ جماعتوں کے اتحاد نے عدنان الزرفی کی نامزدگی مسترد کردی، عراقی صدر کے نام خط، کسی اور کو نامزد کرنے کی اپیل،کرد اور اہلسنت جماعتوں کی حمایت
امریکی سفارت خانہ سیاسی معاملات میں مداخلت کررہا ہے،الصادقون، ایک سال میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نئی حکومت کی ترجیح ہوگی، عدنان الزرفی
بغداد (نیوز ڈیسک) عراق کی بڑی شیعہ جماعتوں نے عدنان الزرفی کو امریکا نواز قراردیتے ہوئے ان کی وزارت عظمی کیلئے نامزدگی مسترد کردی جس کے بعد سیاسی بحران میں شدت آگئی ہے، صدر برھم صالح نے نجف کے سابق گورنر عدنان الزرفی کو وزیر اعظم نامزد کرتے ہوئے حکومت بنانے کی ہدایت کی تھی، تاہم شیعہ الائنس کے ہادی العامری، نوری المالکی، سید عمار حکیم، فالح فیاض اور صادقون الائنس کے رہنماؤں نے مشترکہ اجلاس میں عدنان الزرفی کی نامزدگی مسترد کردی ہے، اجلاس کے بعد عراقی صدر کے نام ایک خط بھیج کر اعلان کیا ہے کہ وہ الزرقی کو وزیر اعظم تسلیم نہیں کریں گے، وزیر اعظم کے لئے کسی دوسرے کو نامزد کیا جائے، جبکہ امریکی حکومت، سابق وزیر اعظم حیدرالعبادی کے اتحاد النصر، الفتح کے ایک چھوٹے دھڑے، بعض کرد اور اہلسنت جماعتوں نے عدنان الزرفی کی حمایت کا اعلان کیا ہے،، مقتدی الصدر کے اتحاد سائرون کی حمایت یا مخالفت واضح نہیں ہے، الصادقون کے رکن محمد البلداوی نے کہا ہے کہ امریکی سفارت خانہ سیاسی معاملات میں مداخلت کررہا ہے،ادھر بصرہ، کربلا، نجف اور بغدادمیں مظاہرین نے الزرفی کی مخالفت کی ہے،ان کا کہنا ہے کہ الزرفی کو کرپشن کے الزامات کے بعد گورنری سے ہٹایا گیا تھا جبکہ وہ امریکی شہریت کی وجہ سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے حوالے سے پارلیمنٹ کی قرارداد پر امریکی دباؤ کو برداشت نہیں کر پائیں گے، دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل نے عدنان الزرفی کی نامزدگی کو غیر آئینی قرار دے دیا، عدنان الزرفی نے قوم کے نام پیغام میں اپنی حکومت کے پروگراموں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عراق کی نئی حکومت کی کوشش ہوگی کہ آئندہ ایک سال میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے اور یہ انتخابات اقوام متحدہ کے نمائندے کی نگرانی میں انجام پائیں گے۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- امریکا نواز وزیراعظم کی نامزدگی سے عراق میں سیاسی بحران
امریکا نواز وزیراعظم کی نامزدگی سے عراق میں سیاسی بحران
-
Ilyas - مارچ 27, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 19
- 0 minute read


































