
کورونا وائرس کی وجہ سے امریکا کی 65 فیصد آبادی متاثر ہوسکتی ہے، ہر مختلف منظرنامے میں ہر متاثرہ شخص 2 سے 3 لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے، امریکی ادارہ
امریکا میں متاثرین کی تعدادظاہری تعداد سے بہت زیادہ ہے، وبا انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے کیونکہ پولیو کے بعد کورونا بدترین وبا ثابت ہوگا،امریکی ماہر
واشنگٹن(نیوزڈیسک) امریکی ماہرین نے خبردار کیا ہے عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے امریکا کی 65 فیصد آبادی متاثر ہوسکتی ہے جبکہ اس کی وجہ سے 17 لاکھ افرد ہلاک بھی ہوسکتے ہیں، امریکی ادارہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے انتباہ جاری کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے امریکا میں بھی حالات سنگین ترین حد تک پہنچ سکتے ہیں، صرف امریکا کی 21 کروڑ 40 لاکھ یعنی آبادی کا 65 فیصد حصہ متاثر ہوسکتا ہے، سی ڈی سی کا مزید کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے صرف امریکا میں 17 لاکھ اموات کا خطرہ ہے، امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک ماہ قبل سی ڈی سی کا بند کمرہ اجلاس ہوا، جس میں امریکی حکام برائے صحت اور دنیا کے معروف ماہر وبایات نے شرکت کی تھی، اس اجلاس میں ایک امریکی ماہر نے امریکا میں وبا پھیلنے کے چار مختلف منظرنامے بتائے، ان کا کہنا تھا کہ بد ترین منظر نامے میں 21 کروڑ 40 لاکھ لوگ تک متاثر ہوسکتے ہیں، تاہم اگر اس حوالے سے فوراً اقدامات اٹھائے جائیں تو یہ تعداد کم ہوکر صرف 30 لاکھ لوگوں تک محدود کی جاسکتی ہے، ایک اور ماہر نے بتایا کہ ہر مختلف منظرنامے میں ہر متاثرہ شخص 2 سے 3 لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے، اسپتالوں میں یہ شرح 3 سے لے کر 12 افراد تک ہوسکتی ہے جبکہ ایک سے 25 فیصد افراد لوگ مارے بھی جاسکتے ہیں، اْدھر امریکا کی اعلیٰ ترین جان ہاپکنز یونیورسٹی کے میڈیکل پروفیسر ڈاکٹر مارٹی نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں مریضوں کی جو تعداد آپ کے سامنے آرہی ہے اس پر یقین نہ کریں، امریکا میں 16سو کیسز تو ایسے ہیں جن میں بیماری کا ٹیسٹ مثبت آیا، ڈاکٹر مارٹی کے مطابق ہر بیمار شخص سے وائرس 25 سے 50 افراد میں پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے اس لیے امریکا میں کورونا کے کیسز کی تعداد 50 ہزار سے 5 لاکھ ہوسکتی ہے، انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ کورونا بیماری کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے کیونکہ پولیو کے بعد کورونا دنیا میں بدترین وبا ثابت ہوگا۔


































