
امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے،یہ بھی محاذ آرائی کی ایک قسم ہے،فلسطینیوں کا متفقہ طور پر منصوبے کو مسترد کرنا امریکا کی مایوسی کیلئے کافی ہے
ٹرمپ انتظامیہ امریکی تاریخ کی سب سے متکبر، ناجائز اور بدعنوان حکومت ہے،اس انتظامیہ نے حال ہی میں دو جرائم انجام دیئے ایک قاسم سلیمانی کا قتل اور دوسرے سینچری ڈیل
بیروت (نیوز ڈیسک)حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہاہے کہ امریکا کی سینچری ڈیل کا مقصد مسئلہ فلسطین کو دفن کرنا ہے، یہ کوئی معاہدہ نہیں بلکہ فلسطینی مقصد کو ختم کرنے کے لئے ٹرمپ کی تجویز ہے، انہوں نے خطاب میں کہا کہ کسی بھی فلسطینی دھڑے نے سینچری ڈیل کی منظوری نہیں دی اور یہ امریکی منصوبے کو درہم برہم کرنے کے لئے بنیادی معاملہ ہے ،انہوں نے لبنانی عوام کی جانب سے منصوبے کو مستردکرنے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ لبنان کے لئے خطرناک ہے،حسن نصراللہ نے کہا کہ اس معاہدے کا سب سے خطرناک عنصر فلسطینی پناہ گزینوں کو لبنان جیسے عرب ممالک میں ہی چھوڑ دینا ہے، یہ منصوبہ صرف ٹرمپ کے مفادات کا حامل ہے اور اسرائیلی حکومت کے حق میں ان کے منصوبوں کو آگے بڑھاتا ہے، حسن نصراللہ نے ٹرمپ انتظامیہ کوامریکی تاریخ کا سب سے متکبر، ناجائز اور بدعنوان قرار دیا اور کہاکہ واشنگٹن کے جرائم مغربی ایشیاء میں مزاحمتی قوتوں کے ساتھ براہ راست تصادم کے آغاز میں شروع ہوئے ہیں، اس انتظامیہ نے حال ہی میں دو جرائم انجام دئے ایک قاسم سلیمانی کا قتل اور دوسرے سینچری ڈیل،حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے لبنانی شہریوں سے ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ منصوبہ کے خلاف جنگ کے حصے کے طور پر امریکی اشیاء اور مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کردی، انہوں نے کہا کہ اگر ہم تمام اشیاء کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہم بعض کمپنیوں کا انتخاب کرسکتے ہیں اور یہ بھی محاذ آرائی کی ایک قسم ہے، اسرائیلی موت سے خوف زدہ ہیں جبکہ کسی امریکی کی کمزوری اس کی معیشت اور سلامتی ہے، حسن نصراللہ نے اپنی اس تقریر میں خبردار کیا ہے کہ اگر نئی حکومت بھی ناکام رہی تو پھر لبنان اپنی بقا برقرار نہیں رکھ سکے گا،انھوں نے ملک کے تقسیم کا شکار سیاست دانوں پر زوردیا ہے کہ وہ مالی اور اقتصادی بحران سے نکلنے کے لیے نئی کابینہ کے کام میں روڑے نہ اٹکائیں۔


































