
محمد علی
رمضان المبارک کی اٹھارویں تاریخ تھی، کوفے کے بازاروں میں گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا تھا، لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف تھے لیکن ایک عجیب بات تھی کہ خوشیوں کے احساس کے باوجود لوگ سہمے سہمے ہوئے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بڑا حادثہ رونما ہونے والا ہے، ہر ایک کا دل کسی اندرونی خوف سے ڈرا ڈرا تھا، امیر المومنین ؑ کے چاہنے والے کچھ زیادہ ہی افسردہ تھے، امیر المومنین ؑ کے گھر والوں کے لئے تو ہر گزرتا دن اداسی کا پیغام لے کر آتا تھا۔
بی بی زینب ؑ آج اپنے شوہر جناب عبداللہ سے ایک دن رکنے کی اجازت لے کر اپنے بابا ؑ کے گھر آئی تھیں ۔ امیر المومنین ؑ انہیں بے حد چاہتے تھے یہی حال بی بی زینب ؑ کا تھا۔ وہ اپنے بابا ؑ پر جان چھڑکتی تھیں ۔
رات گہری ہوتی جاری تھی۔ اس وقت رات کا پچھلا پہر تھا۔ بی بی زینب ؑ اپنے بابا ؑ کو نماز شب پڑھتے دیکھ رہی تھیں ۔ انہوں نے آج اپنے بابا ؑ میں ایک تبدیلی دیکھی تھی ، ان کے بابا ؑ آج شام ہی سے بے حد بے چین سے لگ رہے تھے وہ بار بار کمرے سے نکل کر صحن میں جاتے، آسمان کی طرف دیکھتے اور پھر اندر آکر عبادت میں مشغول ہو جاتے ، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کے بابا ؑ بے چینی سے کسی کے منتظر ہیں ۔
نماز وتر سے فارغ ہو کر امیر المومنین ؑ نے اپنے گھر والوں کو الوداعی نظروں سے دیکھا امیر المومنین ؑ مسجد جانے کے لئے گھر کے صحن سے گزرنے لگے، صحن میں اس وقت اندھیرا تھا۔ امیر المومنین ؑ دروازے کی جانب بڑھے تو گھر میں پلی ہوئی لمبی لمبی گردنوں والی سفید بطخوں نے اچانک ہی شور مچانا شروع کردیا۔ کئی بطخیں تیزی سے آگے بڑھیں اوربڑھیں اور انہوں نے امیر المومنین ؑ کی عبا کے دامن کو اپنی چونچوں سے پکڑ لیا۔ شاید بطخیں نہیں چاہتی تھیں کہ امیر المومنین ؑ گھر سے باہر جائیں۔
امیر المومنین ؑ نے بطخوں کو پیار کیا اور ان کی گردنوں کو سہلانے لگے، بطخوں کا شور سن کر حضرت امام حسن ؑ باہر نکل آئے ۔ حسن ؑ بیٹا ان بطخوں کا خیال رکھنا۔ اپنی مصروفیات میں ان کے دانے پانی کو نہ بھول جانا۔
امیر المومنین ؑ نے امام حسن ؑ سے کہا اور تیزی سے باہر نکل گئے۔ انہیں مسجد پہنچنے کی جلدی تھی۔ روزانہ کی نسبت آج وہ زیادہ تیزی سے مسجد کی طرف بڑھ رہے تھے۔
مشرقی افق پر ہلکی ہلکی سفیدی پھیلنے لگی تھی لیکن مسجد کے اندر ابھی ہلکا ہلکا اندھیرا تھا مسجد کی مشرقی دیوار کی طرف ابھی مکمل تاریکی تھی۔ اس تاریکی میں ایک شخص الٹا پڑا سورہا تھا۔ یہ شخص رات کے کسی حصے میں یہاں آکر لیٹ گیا تھا ، رات بھر اس نے جاگ کر گزاری تھی ، وہ ساری رات نیند سے لڑتا رہا تھا لیکن صبح ہوتے ہی نیند اس پر غالب آگئی تھی۔ اس وقت وہ گہری نیند میں کھویا ہوا تھا۔
امیر المومنین ؑ نے اذان کے لئے کھڑے ہونے سے پہلے مسجد کے تاریک حصے میں اس شخص کو الٹا لیٹے ہوئے دیکھا۔
آپؑ اس کے قریب گئے۔ نماز فجر کا وقت ہورہا ہے ۔ امیر المومنین ؑ نے اس شخص کا شانہ ہلا کر اسے جگایا۔ پھر آپؑ اذان دینے کی جگہ چلے گئے۔ اذان دینے کے بعد آپؑ نمازیوں کا انتظار کرنے لگے، اسی دوران آپؑ نے دو رکعت نفل نماز کی نیت کی اور عبادت میں مشغول ہوگئے۔
نمازی، مسجد میں آنا شروع ہوگئے تھے ، مسجد میں لیٹا ہوا شخص جسے امیر المومنین ؑ نے گہری نیند سے بیدار کیا تھا اب اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ اس شخص کا نام ابن ملجم تھا۔ اس کا تعلق مراد نامی قبیلے سے تھا، اس نے ایک زہر آلود تیز دھار والی تلوار اپنے لباس میں چھپا رکھی تھی ۔ اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اپنی تلوار نکالی اور اٹھ کھڑا ہوا، کسی نے بھی اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ ابن ملجم نے سیدھے ہاتھ میں تلوار پکڑ رکھی تھی ۔ وہ لمبے لمبے قدم بڑھاتا ہوا امیر المومنین ؑ کے پیچھے پہنچ گیا۔ امیر المومنین ؑ دنیا و مافیہا سے بے خبر عبادت الہٰی میں مصروف تھے۔ ان کی ساری توجہ رب العالمین کی جانب مرکوز تھی۔ وہ زمین و آسمان کے مالک کے حضور کھڑے تھے۔ ایسے میں ان جیسے اللہ کی معرفت رکھنے والے کے لئے کہاں ممکن تھا کہ وہ اپنے مالک اللہ جل شانہ کے سامنے کھڑے ہو کر کسی اور کی طرف متوجہ ہوں ! قنوت پڑھتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈ رہا تھا۔ یہ آنسو اللہ کی محبت و معرفت کے آنسو تھے۔ یہ آنسو ان کے رخساروں سے ہوتے ہوئے ان کی ریش مبارک پر گر رہے تھے اور موتیوں کی طرح چمکنے لگے تھے ، جب آپؑ سجدے میں گئے تو پورا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا، نفل نمازوں میں آپؑ سجدے کے ذکر کو طول دیا کرتے تھے۔
آپؑ نے اپنی پیشانی سجدے کے لئے فرش پر رکھی ہی تھی کہ آپؑ کے پیچھے ایک بجلی سی چمکی یہ چمک ابن ملجم کی تلوار سے پیدا ہوئی تھی، کئی نمازیوں نے ابن ملجم کی تلوار بلند ہوتے دیکھا تو چیختے ہوئے اس کی طرف بھاگے لیکن اس وقت تک ابن ملجم کی زہریلی تلوار اپنا کام کر چکی تھی۔
کچھ لوگوں نے گھیرا ڈال کر ابن ملجم کو پکڑ کر قابو میں کرلیا تھا۔ کچھ نمازی امیر المومنین ؑ کو اٹھانے آگے بڑھے ، امیر المومنین ؑ زخمی ہو کر دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے ہوئے زمین پر کروٹ سے پڑے تھے۔ آپؑ کے سر سے تازہ تازہ خون ابل رہا تھا اور آپؑ کی ریش مبارک کو تر کرتا ہوا مسجد کے فرش پر پھیلتا جارہا تھا ۔
امیر المومنین ؑ شدید تکلیف میں تھے لیکن کسی کو مدد کے لئے پکارنے کے بجائے بار بار ایک ہی جملہ دہرارہے تھے’’رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔‘‘ ان کی آواز میں تکلیف کی شدت بھی تھی لیکن ان کے لہجے میں خوشی کا تاثر غالب تھا۔ یہ واقعہ 19رمضان المبارک کو فجر کے وقت پیش آیا تھا، اس کے دو دن بعد 21 رمضان المبارک کو امیر المومنین ؑ شہید ہوگئے۔
دوستو! ہمارے پیارے امام ؑ نے دین اسلام کی خاطر کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا ۔ یہاں تک کہ آپؑ کو نماز میں سجدہ کی حالت میں مسجد کوفہ میں شہید کردیا گیا۔
آپؑ کی سیرت آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ ہمیں آپؑ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے ماہ رمضان میں روزہ کی پابندی اور اول وقت باجماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے.


































