
واشنگٹن : امریکا نے غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام یا نسل کشی کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں کے دوران غزہ میں فلسطینیوں کی اموات کو قتل عام کے طور پر نہیں دیکھتی۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ حماس کو شکست ہو، اور یہ کہ جنگ کے اندر پھنسے فلسطینیوں کےلیے زندگی جہنم بنی ہوئی ہے۔ رفح میں اسرائیل کی کوئی بھی بڑی فوجی کارروائی ایک غلطی ہو گی۔ سیلیوان نے کہا کہ ہمارا نہیں خیال کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قتل عام ہے۔ ہم اس رائے اور سوچ کو سختی سے مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے بائیڈن کی پیشکش کو دہراتے ہوئے کہا کہ اگر حماس یرغمالوں کو رہا کر دے تو جنگ بندی ہو سکتی ہے۔ دنیا کو حماس سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور معاہدے کو قبول کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے۔ لیکن وہ یہ پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ معاہدے پر کب دستخط ہوں گے۔


































