
پوسٹ امریکہ دور
تحریر: فاطمہ ترکاشوند
امریکہ اور یورپ کے سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاران کی نظر میں امریکہ کی طاقت میں زوال اس قدر واضح ہے اب ان میں سے بہت کم یہ سوال پیش کرتے ہیں کہ "کیا امریکہ کا زوال شروع ہو چکا ہے؟” بلکہ اس وقت سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاران نے امریکہ کے بعد والی دنیا پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور اکثر ذرائع ابلاغ اس حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ سب سے پہلے کس نے امریکہ کے زوال پذیر ہونے کی پیشن گوئی کی تھی۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ امریکی اور یورپی ماہرین سب سے زیادہ اس موضوع پر توجہ دے رہے ہیں اور سنجیدگی سے اس کے اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ معروف امریکی فلسفی نوآم چامسکی کی 2018ء میں "امریکی طاقت کے زوال” کے موضوع پر تقریر سے لے کر "نسلیں” نامی کتاب تک جو 1991ء میں شائع ہوئی تھی اور اس میں 2020ء کے بحران سے متعلق پیشن گوئی نے سب کو حیران کر دیا تھا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 8 فروری 2021ء کے دن اعلی سطحی فوجی کمانڈرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: "یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس قدر ذلت آمیز انداز میں زوال کا مسئلہ اور اس سے مربوط رونما ہونے والے واقعات درحقیقت ایک نالائق صدر کا زوال نہیں تھا بلکہ امریکہ کی عزت کا زوال تھا، امریکہ کی طاقت کا زوال تھا، امریکہ کے سماجی نظام کا زوال تھا۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ ان کے اپنے افراد کہتے ہیں۔ ان کے مشہور سیاسی ماہرین نے اعلان کیا ہے کہ امریکی نظام اندر سے بوسیدہ ہو چکا ہے۔” ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے اخلاق اور پالیسیوں کا چار سال تک مسلط رہنا بذات خود ہی امریکی شہریوں کے اندر بحرانی کیفیت محسوس کرنے کیلئے کافی تھا۔ جبکہ اس کے دور میں نئی جنگ شروع ہونے کا خوف بھی مسلسل حاوی رہا جس کے نتیجے میں امریکی معاشرہ شدید بحران کا شکار ہو گیا۔
امریکی ماہر تاریخ اینڈرو باسوچ نے حال ہی میں "سلطنت کا اختتام” کے عنوان سے مقالہ شائع کیا ہے۔ انہوں نے اپنے مقالے میں اس بات کی وضاحت پیش کی ہے کہ کیوں "امریکی سلطنت پر سورج غروب ہو گیا ہے۔” اینڈرو باسوچ نے امریکی سلطنت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی دلیل کی بنیاد امریکہ کے سماجی نظام میں سسٹمک غربت اور نسل پرستی کے خلاف عوام کے اٹھ کھڑے ہونے کو بنائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: "امریکی معاشرے میں یہ غربت اور نسل پرستی کئی برسوں سے دنیا اور خود امریکی شہریوں کیلئے واضح ہو چکی ہے لیکن ٹرمپ کی مدت صدارت میں کرونا کو کنٹرول کرنے میں ظالمانہ غفلت نے اسے ناقابل انکار عقیدہ بنا دیا ہے۔۔۔ اور امریکی سلطنت کا زمانہ اب ختم ہو چکا ہے۔” یہ وہی چیز ہے جس کی جانب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کو خود امریکی محققین بھی قبول کرتے ہیں۔
بعض امریکی ماہرین جیسے معروف ماہر سماجیات ایمونوئیل والر اشتائن نے تو ایک عشرہ قبل ہی امریکی زوال کی نوید سنا دی تھی۔ وہ 2013ء میں "امریکی زوال کے اثرات” نامی اپنے مقالے میں لکھتا ہے: "میں گذشتہ طویل عرصے سے اس بات کا جائزہ لے رہا ہوں۔ امریکی طاقت اور اثرورسوخ کا زوال 1970ء کی دہائی سے ہو چکا ہے اور جرج بش کے زمانے میں اس میں تیزی آئی تھی۔ میں نے اس بارے میں سب سے پہلے 1980ء کی دہائی میں لکھنا شروع کیا تھا۔ اس وقت تمام سیاسی حلقوں نے میرے خلاف ردعمل ظاہر کیا تھا اور اسے ایک نامعقول بحث قرار دیا تھا۔” وہ امریکی شہریوں کی سوچ میں تبدیلی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "لیکن 2008ء میں غبارے سے ہوا نکل جانے کے بعد ماہرین اور عام شہریوں کی سوچ تبدیل ہونے لگی۔ آج امریکیوں کی بڑی تعداد اس حقیقت کو قبول کر چکی ہے کہ امریکہ کی طاقت، مقام اور اثرورسوخ زوال پذیر ہو چکا ہے۔”
امریکہ کے ایک مشہور ترین فلاسفر نوآم چامسکی بھی امریکی طاقت کے زوال کا اعتراف کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کا زاویہ نگاہ تھوڑا مختلف ہے اور وہ اس پیشن گوئی کیلئے مختلف قسم کی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ وہ 2011ء میں اپنے شائع ہونے والے مقالے "امریکی زوال، وجوہات اور نتائج” میں لکھتے ہیں: "یہ زوال ٹھیک اس وقت شروع ہوا جب دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ کی طاقت اپنے عروج پر تھی۔ 1990ء کے عشرے میں مسلسل کامیابیوں کے بارے میں بڑی بڑی باتیں دراصل خود کو دھوکہ اور فریب دینے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔” وہ امریکہ کے زوال کے اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "عام طور پر یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ امریکہ کے زوال کے بعد طاقت چین اور انڈیا میں منتقل ہو جائے گی لیکن یہ بہت مشکوک بات ہے۔ وہ غریب ممالک ہیں جو شدید اندرونی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بہت تبدیل ہو چکی ہے۔”
بنگہمٹن یونیورسٹی کے ماہر سماجیات پروفیسر جمیز پیٹریاس بھی ایسے ماہرین میں شامل ہیں جو امریکی زوال کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان کی کتاب "صیہونزم، فوجی مہم جوئی اور امریکی طاقت کا زوال” 2010ء میں شائع ہوئی اور اس پر بہت شور اٹھا۔ وہ اپنی کتاب میں ایک طرف اس بات پر دلیل پیش کرتے ہیں کہ مشرق وسطی میں اسرائیل کی حمایت پر مبنی امریکی پالیسی امریکہ کے زوال کا باعث بن جائے گی جبکہ دوسری طرف اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کس طرح امریکی معیشت جمود کا شکار ہو چکی ہے اور مسلسل جنگوں کے باعث امریکی معیشت بحال نہیں ہو رہی۔ لہذا امریکہ اندرونی اور بیرونی سطح پر اپنی طاقت کھو چکا ہے اور اب اس کے تسلط میں زوال کا دور شروع ہو چکا ہے۔


































