
اسلام آباد : سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران امریکا پر پھٹ پڑیں۔ کہا کہ امریکا کو کوئی بھی سر اٹھانے والا قبول نہیں ہے اسی لئے اس نے پاکستان میں جمہوری حکومت کو ہٹانے کی سازش کی۔ جب سے پاکستان بنا ہے امریکا نے پاکستانی لیڈروں کو خریدا اور امریکا اس طریقے سے پاکستان کے داخلی امور میں مداخلت کرتا ہے اور اس بار بھی امریکانے یہی طریقہ اپنایا اور کہا کہ عمران خان کو ہٹانا ہے۔ امریکی اشارے پر ہی اپوزیشن جماعتیں متحد ہوئیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ تحریک عدم اعتماد لانے والے امریکی ڈکٹیشن پر چل رہے ہیں اور انہوں نے امریکا کی غلامی قبول کی ہے۔ عجیب و غریب منظر ہے امریکا کا پیسا اور دھمکی غداروں کو ملا دیتی ہے۔ اپوزیشن کا نظریہ کیا ہے، امریکا کی غلامی اور پیسے کا کھیل۔ ان کا کہنا تھا کہ مفتی محمود اور ساتھی بھٹو کے عدالتی قتل میں ملوث تھے، یہ ستارے تھے جنھوں نے بھٹو کاعدالتی قتل کرایا، حسین حقانی اور میمو گیٹ کو بھی لوگ نہیں بھولے جنہوں نے فوج کےخلاف امریکا سے مدد مانگی۔پہلے یہ ایک دوسرے کے پیٹ پھاڑنے کی دھمکی دیتے تھے آج گلے رہےہیں۔ اپوزیشن اپنا نظریہ بتائے؟۔ آپ کا ذہن غلام ہے۔ آپ بھیک مانگتےہو۔انہوں نے کہا کہ نون لیگ، پیپلز پارٹی دور میں پاکستان پر ڈرون حملے ہوئے لیکن کسی لیڈر نے ان حملوں کی مخالفت نہیں کی کیونکہ ان کے امریکا سےگہرے خفیہ تعلقات ہیں۔ عمران خان نے پاکستان کو آزادخارجہ پالیسی دی اسی لیے امریکا نے کہا عمران خان کو ہٹا دو، پاکستان کو معاف کردیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایک جھوٹا ملک ہے اور اس نے اقوام متحدہ میں جھوٹ بولا تھا کہ عراق کے پاس جوہری ہتھیار ہیں لیکن عراق پر چڑھائی کرنے کے بعد کہا کہ اسے غلط رپورٹ ملی تھی۔


































