
واشنگٹن : سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اپنے اہم میزائل ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے اور ممکنہ طور پر مستقبل میں کمی کا سامنا کر سکتا ہے۔ سی این این اور سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران 45 فیصد پریسیژن اسٹرائیک میزائل۔ کم از کم پچاس فیصد تھاڈ انٹرسیپٹرز اور تقریباً پچاس فیصد پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل استعمال ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً تیس فیصد ٹوماہاک میزائل۔ بیس فیصد لانگ رینج جے اے ایس ایس ایم اور بیس فیصد ایس ایم تھری اور ایس ایم چھ میزائل بھی خرچ ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں، جبکہ مکمل سطح پر بحالی میں مزید وقت درکار ہوگا۔ تاہم پینٹاگون نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کے پاس کسی بھی وقت کارروائی کے لیے کافی اسلحہ موجود ہے۔


































