Sat Oct 10, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

امریکا نے بیشتر اسلحہ استعمال کرلیا، نئی جنگ کیلئے قلت کا سامنا

واشنگٹن : سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اپنے اہم میزائل ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے اور ممکنہ طور پر مستقبل میں کمی کا سامنا کر سکتا ہے۔ سی این این اور سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران 45 فیصد پریسیژن اسٹرائیک میزائل۔ کم از کم پچاس فیصد تھاڈ انٹرسیپٹرز اور تقریباً پچاس فیصد پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل استعمال ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً تیس فیصد ٹوماہاک میزائل۔ بیس فیصد لانگ رینج جے اے ایس ایس ایم اور بیس فیصد ایس ایم تھری اور ایس ایم چھ میزائل بھی خرچ ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں، جبکہ مکمل سطح پر بحالی میں مزید وقت درکار ہوگا۔ تاہم پینٹاگون نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کے پاس کسی بھی وقت کارروائی کے لیے کافی اسلحہ موجود ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular