
نیویارک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں عرب مسلم رہنماؤں سے ملاقات میں اعتراف کیا ہےکہ امریکہ غزہ جنگ کو ابھی اسی وقت ختم کر سکتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس لایا جائے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت لوگوں کو دیکھیں گے۔ ہم کچھ کرنے جا رہے ہیں کیونکہ یہ جنگ بہت طویل ہو چکی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ ختم ہو جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اسلامی ملکوں کے سربراہوں سے ملاقات اعزاز ہے۔ آپ سب نے بہترین کام کیا جو قابل تعریف ہے۔
ملاقات میں مسلم رہنماؤں نے جنگ بندی پر تجاویز پیش کیں۔ اس سے پہلے جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکی صدر نے کہاکہ ان کا ملک دنیا میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ اگر میں اس وقت امریکی صدر ہوتا تو حماس اسرائیل اور روس یوکرین جنگیں شروع نہ ہوتیں۔ انہوں نے پھر دعویٰ کیا کہ میں نے پاکستان اور انڈیا کی جنگ سمیت دنیا میں سات جنگیں رُکوائیں اور لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچائی ہیں امریکی صدر نے اپنے خطاب میں مسئلہ فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی کا معاہدہ ہونا چاہیے۔ حماس کی وجہ سے ابھی تک جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہوا، حماس کو تمام یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا.


































