
واشنگٹن : امریکہ اور یوکرین نے معدنیات معاہدے پر دستخط کر دیے۔ امریکہ یوکرین کے قدرتی وسائل کے نصف کا مالک بن گیا۔ معاہدے کے تحت امریکہ کو یوکرین کے قدرتی وسائل جیسے ایلومینیم، گریفائٹ، تیل اور قدرتی گیس کے نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے خصوصی رسائی حاصل ہوگی۔ یوکرین کی حکومت نے اس معاہدے کو اپنی خودمختاری کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ معاہدے میں امریکہ کو یوکرین کے معدنی وسائل میں ترجیحی حقوق دیے گئے ہیں، لیکن یوکرین اپنی زمین کے نیچے موجود وسائل پر مکمل خودمختاری برقرار رکھے گا اور ان کے نکالنے کے طریقوں کا فیصلہ خود کرے گا۔ معاہدے کے تحت قائم ہونے والا مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ یوکرین کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے منافع اور رائلٹی کا 50 فیصد حاصل کرے گا، جو یوکرین کی ریاست کو حاصل ہوگا۔ یہ فنڈ یوکرین کی تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ یوکرین کے شہریوں نے اس معاہدے پر خدشات کا اظہار کیا ہے کہ کہیں یہ معاہدہ ان کے قدرتی وسائل کے استحصال کا سبب نہ بن جائے۔ یوکرین کے وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ معاہدہ یوکرین کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور اس میں موجودہ وسائل، سہولیات، لائسنس اور کرایوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔


































