
اسلام آباد : بارڈر کی بندش سمیت زائرین چہلم امام حسین علیہ السلام کے جملہ مسائل کے حل کے لیے ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ امور خارجہ کی کوششیں جاری ہیں۔ایم ڈبلیو ایم کے سیکریٹری امور خارجہ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی کے عراقی حکام اور سفراء سے رابطے کے نتیجے میں متعلقہ حکام اور رہنماؤں نے مسئلے کے حل کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ علامہ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی کے رابطے کے بعد معروف عراقی جماعت مجلس اعلیٰ اسلامی کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر ھمام حمودی نے عراق کی مرکزی حکومت سے خصوصی رابطہ کیا اور بارڈر کی بندش سمیت پاکستانی زائرین کے تمام مسائل کے فی الفور حل کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر ھمام حمودی کے دفتر نے ایم ڈبلیو ایم کے سیکریٹری خارجہ کے نام جوابی خط میں بتایا کہ وہ عراق کی مرکزی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، تاکہ پاکستانی زائرین کی مشکلات حل ہوں اور پاکستانی زوار اربعین کے موقع پر زیارت ابا عبداللہ سے مشرف ہوسکیں۔عراقی سفیر کے ساتھ بات چیت میں ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے پاکستانی زائرین کی مشکلات کا دوبارہ تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے سفیر کو مسائل کے حل میں کردار ادا کرنے پر زور دیا، جس پر عراقی سفیر نے بتایا کہ وہ ایم ڈبلیو ایم کے پہلی دفعہ رابطے کے بعد سے ہی ان مسائل کو کم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی کا اس سلسلے میں ایرانی سفیر سے بھی دوبارہ رابطہ ہوا ہے، جس پر ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ ایران نے پاکستانی زائرین کی سہولت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے ہیں اور پاکستانی زائرین کے لیے ایران سے عراقی بارڈر کی بندش کے سلسلے میں بھی ایرانی وزارت خارجہ عراقی حکام کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ علامہ شفقت حسین شیرازی نے کہا کہ پاکستانی زائرین کی مشکلات اور مسائل کا حل اس وقت ترجیحی مسئلہ ہے، جس کو حل کرنے کے لیے ایم ڈبلیو ایم اپنی پوری توانائی صرف کر رہی ہے۔ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے پاکستانی حکومت خصوصاً پاکستانی وزارت خارجہ اور وزارت مذہبی امور سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی زائرین کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ان مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی زائرین کو اس وقت زیارت کے حوالے سے چند ایک مشکلات درپیش ہیں، جن میں ایران سے عراق کے زمینی بارڈر کی پاکستانی زائرین کے لیے بندش، عراقی ویزا کے حصول سے پہلے اپروول کا غیر ضروری طویل پراسس، اضافی فیس اور چالیس سال سے کم عمر ایسے زائرین جن کے ساتھ کوئی محرم خاتون نہیں، اس کے ویزے کو مسترد کیے جانے جیسے مسائل نمایاں ہیں۔ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے پاکستانی سفارتی حکام سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ دیگر ممالک کے سفارتی حکام کی طرح اس مسئلے کو عراقی حکام کے ساتھ اٹھائیں اور ان مسائل کا فی الفور حل نکالا جائے۔


































