
تہران: ایران نے کہا ہے کہ مزاحمتی گروپوں کو غزہ میں اسرائیل کو جارحیت کی بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرنے کے لیے تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔ ایران کے عبوری وزیر خارجہ علی باقری نے دوحہ میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے ساتھ ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت کو قابض افواج کے خلاف فلسطین کے اندر مسلح مزاحمت تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کے لیے مسلح مزاحمت کے ساتھ ساتھ قانونی سیاسی شعبوں اور عوامی سفارت کاری میں بھی مزاحمت کی ضرورت ہے۔ اسماعیل ہنیہ نے ایرانی سپریم لیڈر کے ساتھ ساتھ ایرانی قوم اور حکومت کی طرف سے اپنی قوم کو فراہم کی جانے والی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام گذشتہ نو ماہ سے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے وحشیانہ جرائم اور نسل کشی کے تسلسل کے باوجود اسرائیل کے خلاف اپنی بھرپور مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔


































