
انقرہ: ترکیہ اور شام میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں تاہم ملبے تلے دبے افراد کے بچنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تباہ عمارتوں کے ملبے سے مزید لاشیں نکال لی گئیں۔ جس سے مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اب تک سولہ ہزار سے زائد اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ۔تاحال ملبے تلے دبے افراد کے بچنے کی امیدیں بھی دم توڑتی جا رہی ہیں۔ گذشتہ رات بھی لوگ ملبے کے ان ڈھیروں کے قریب موجود رہے جہاں ان کے پیارے دب گئے تھے۔ ملبے کو ہٹانے کے لیے ضروری سامان کی غیرموجودگی اور درست تربیت نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو نہیں نکالا جا سکا۔ اسی طرح ملک کے جنوبی حصے کے وسیع علاقے میں بڑی تعداد میں متاثرین پناہ اور خوراک بھی تلاش کرتے رہے اور انہیں سخت سرد موسم کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ گذشتہ روز ترک صدر طیب اردوان نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے امدادی کاموں میں سست رفتاری کا اعتراف کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ریاست اپنا کام کر رہی ہے۔ شروعات میں ایئرپورٹس اور سڑکوں پر مسائل تھے مگراب چیزیں آسان ہو رہی ہیں ۔


































