Sun Oct 11, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

آغا سید جعفر نقوی، روحانی تربیت کا روشن چراغ

تحریر: آغا زمانی

یہ 1995ء کی بات ہے۔ میں نیشنل کالج کراچی میں نیا نیا داخل ہوا تھا۔ ہر جمعہ کلاس کے بعد ایک تربیتی درس کا اہتمام ہوتا تھا، جو آئی ایس او کراچی ڈویژن نیشنل کالج یونٹ کے تحت منعقد کیا جاتا تھا۔ درس سے پہلے کوئی نعت یا منقبت خوانی کی جاتی، پھر کسی عالمِ دین کا فکری یا اخلاقی درس ہوتا۔ یہ درس میرے لیے نئی دنیا کے دروازے کھولنے والا تھا۔ انہی دنوں میرا تعارف آئی ایس او کے سینیئر برادر اسد عباس بخاری سے ہوا، وہ میرے محسن بھی بنے۔ انہی کی صحبت سے میں ڈاکٹر علی شریعتی کی کتب سے آشنا ہوا اور کئی فکری مباحثوں کا حصہ بنا۔ اکثر ہم درس کے بعد مرزا قلیچ بیگ نمائش کے علاقے میں ایک خاص مقام پر جایا کرتے۔ یہ ایک سادہ سا گھر تھا، جس کے صحن میں ایک تخت رکھا ہوتا اور اسی تخت پر بیٹھ کر علم و تقویٰ کا مجسمہ، استادِ عرفان، عاشق امام خمینی (رح) مولانا سید آغا جعفر نقوی درس دیا کرتے۔

آغا صاحب کا درس مختصر مگر جامع ہوتا۔ وہ پہلے مولا علی علیہ السلام کے کلماتِ قصار میں سے ایک قول بیان کرتے، پھر اس کی شرح فرماتے۔ اس کے بعد امام خمینی (رح) کی تحریر الوسیلہ سے ایک فقہی مسئلہ بیان کرتے اور نہایت سادگی سے اس پر روشنی ڈالتے۔ ان کا انداز بے حد دوستانہ، نرم اور دل نشین ہوتا تھا۔ ایک دن کا واقعہ آج بھی میرے دل میں تازہ ہے، چند لڑکے صحن میں رکھے تخت پر لیٹے ہوئے تھے۔ جیسے ہی آغا جعفر صاحب کمرے سے باہر آئے، وہ سب احتراماً فوراً اٹھ کر بیٹھ گئے۔ آغا صاحب مسکرائے، ان کے درمیان آ کر بیٹھے اور نہایت محبت سے فرمایا، جیسے لیٹے تھے، ویسے لیٹے رہیں، آپ تھکے ہوں گے، کالج سے آئے ہیں، کچھ دیر آرام کریں۔ میں اندر جاتا ہوں، پھر نماز پڑھاتے ہیں۔ وہ واپس کمرے میں چلے گئے اور لڑکے آرام کرنے لگے۔ نماز کے وقت آئے، امامت کرائی، پھر اپنے ہاتھوں سے سب طلبہ کو چائے بنا کر پیش کی۔ ان کے اس عمل نے ہمیں سکھایا کہ دین صرف علم نہیں، بلکہ کردار، محبت اور خدمت کا نام ہے۔

ایک اور واقعہ آج بھی ذہن میں گونجتا ہے۔ ایک نوجوان نے لمبی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں۔ آغا صاحب نے درس کے بعد مسکرا کر کہا، اگر آپ مونچھیں تھوڑی چھوٹی کریں تو آپ پر بہت جچیں گی۔ اگلی نشست میں وہ نوجوان مونچھیں چھوٹا کرکے آیا۔ بعد میں کسی نے آغا صاحب سے پوچھا: “آپ نے اُسے مکروہ یا ناپسندیدہ کیوں نہیں کہا؟” آغا صاحب مسکرا کر بولے، اگر میں کراہت کہتا، شاید وہ نہ مانتا۔ لیکن جب میں نے اس کے ذوقِ جمال سے بات کی تو اس نے خود اپنا رویہ بدل لیا۔ یہ تھا آغا جعفر نقوی کا حکمت بھرا اندازِ تربیت۔ آپ نہایت سادہ اور بے تکلف انسان تھے۔ پروٹوکول اور ظاہری نمائش سے کوسوں دور رہتے، وہ ایسے بھی مقامات پر درس دینے چلے جاتے، جہاں صرف 10 یا 12 طلبہ ہوتے۔ فرماتے، تعداد اہم نہیں، تربیت اور تقویٰ اہم ہے۔

آغا صاحب جسامت کے اعتبار سے نحیف اور کمزور انسان تھے، مگر روحانی طور پر بہت قوی تھے۔ ان کے کئی شاگرد آج ایران و عراق میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرچکے ہیں اور دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ وہ خاموشی سے مستحق طلبہ کی مالی مدد کیا کرتے، مگر کبھی کسی پر احسان نہ جتاتے۔ آج آغا سید جعفر نقوی کو ہم سے بچھڑے 22 برس گزر چکے ہیں، مگر ان کی یادیں، ان کی نصیحتیں اور ان کی خوشبودار شخصیت ہمارے دلوں میں آج بھی ایک روشن چراغ کی طرح جل رہی ہے۔ وہ چراغ جو نہ صرف ہمیں راستہ دکھاتا ہے بلکہ ہمارے دلوں کو بھی گرما دیتا ہے۔ آغا جعفر نقوی 4 اپریل 1937ء کو بھارت کے شہر بہار کے ایک علمی و دینی گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کے والد مولانا سید علی حیدر نقوی خود ایک جلیل القدر عالم تھے۔ آغا جعفر کے بھائی علامہ سید رضی جعفر نقوی بھی اہل علم و فکر میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔

بچپن سے ہی آغا جعفر کا رجحان دین، عبادت اور مطالعے کی طرف تھا۔ علم کی جستجو انہیں دینی مدارس تک لے گئی، جہاں انہوں نے خود کو نہ صرف ایک طالب علم بلکہ ایک سچے عاشقِ اہل بیت علیہم السلام کی طرح پروان چڑھایا۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا رنگ عرفان تھا۔ وہ عارف باللہ تھے، یعنی وہ خدا کو صرف کتابوں کے ذریعے نہیں دل اور روح کے ذریعے پہچاننے والے تھے۔ ان کے چہرے سے نور جھلکتا تھا اور ان کی گفتگو میں دلوں کو ہلا دینے والی حرارت ہوتی تھی۔ آغا جعفر امام خمینی (رح) کے سچے پیروکار تھے۔ انہوں نے ہمیشہ امام خمینی کے انقلابی افکار کو اپنایا اور انہیں نوجوانوں تک پہنچایا۔ وہ انقلابی جوانوں کے درمیان ایک ایسا درخت بن گئے، جس کی چھاؤں میں نظریاتی تربیت، تقویٰ اور ولایتی شعور پروان چڑھا۔ ان کی شخصیت ایسی تھی کہ نہج البلاغہ میں امام علی علیہ السلام نے متقین کی جو صفات بیان کی ہیں، وہ اکثر ان میں دیکھی جا سکتی تھیں، وہ علم کے ساتھ عمل اور فکر کے ساتھ درد دل رکھتے تھے۔

قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی (رح) سے ان کا عشق ایسا تھا، جو ان کی شخصیت کا خاصہ بن چکا تھا۔ آغا جعفر نقوی صرف پڑھانے والے استاد نہیں تھے، وہ ایک رہنماء تھے۔ ان کے شاگرد آج بھی معاشرے میں فعال نظر آتے ہیں، کہیں خطابت میں، کہیں تدریس میں، کہیں تحریکوں میں اور کہیں مسجد و محراب میں، مگر ایک چیز جو ان سب میں مشترک ہے، وہ ہے خوفِ خدا، فکری پختگی اور ولایتی بصیرت۔ 7 جون 2003ء کو طویل علالت کے بعد آغا جعفر نقوی (رح) نے اس دنیا سے رخصت لی، مگر درحقیقت وہ گئے نہیں۔ وہ آج بھی اپنے شاگردوں کی صورت میں اپنی تعلیمات کی صورت میں اور اپنے کردار کی خوشبو کے ذریعے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ آغا جعفر ایک چراغ تھے جو ظاہراً بجھ چکا ہے، لیکن بجھنے سے پہلے اس چراخ سے کئی اور چراغ روشن ہو چکے ہیں۔ (ہفتہ، 7 جون 2025ء/10 ذی الحجہ 1446ھ)

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular