
برطانوی وزیر خارجہ نے ہاؤس آف کامنز سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کو ادا کی گئی رقم برطانیہ کا قانونی قرض ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی مانیٹرنگ سروس کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ "لز ٹیریس” نے ہاؤس آف کامنز میں ایک تقریر میں اس بات کی وضاحت کی کہ ایران کو ادا کی گئی رقم، تہران کو واجب الادا قانونی قرض ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے بتایا تھا کہ برطانیہ نے 40 سال کی تاخیر اور ٹال مٹول کے بعد بالآخر اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنا 39 کروڑ پاؤنڈ کا قرض ادا کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایران اور برطانیہ نے 1970ء کی دہائی میں ایران کو 1500 ٹینک اور 250 بکتر بند گاڑیاں فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ لیکن تہران میں واقع امریکی سفارتخانے (جاسوسی کے اڈے) پر ایرانی طلباء کی جانب سے قبضے کے بعد لندن نے ایران کو ان ٹینکوں کی فراہمی روک دی تھی۔
پہلوی حکومت نے اس معاہدے سے متعلق تمام رقوم ادا کر دی تھیں، جو کہ بعض رپورٹس کے مطابق ایک ارب ڈالر تھیں۔ بین الاقوامی ثالثی عدالت نے ایک برطانوی ملٹری سروس کمپنی کو ایرانی حکومت کو 400 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن برطانیہ نے اس بہانے کی بنیاد پر رقم واپس کرنے سے انکار کر دیا کہ بین الاقوامی پابندیاں ایران کو رقم کی منتقلی کی اجازت نہیں دیتیں۔ لز ٹیرس نے ہاؤس آف کامنز کو بتایا کہ ہم نے ہمیشہ یہ واضح کیا ہے کہ یہ ایران کو واجب الادا ایک قانونی قرض ہے، جو برطانیہ کو ادا کرنا ہے۔ بعض پیچیدگیوں کی وجہ سے اس رقم کی ادائیگی ایک مشکل مسئلہ بن گیا تھا۔۔۔ لیکن آخرکار ہم نے اس مسئلے کا راہ حل تلاش کر لیا۔


































