
پیرس : فرانس میں اسلاموفوبیا کی لہر تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ایک بار پھر مسلمانوں کے دو مراکز پر حملہ کیا گیا۔ جنوب مغربی فرانس کے علاقے ہوٹ گیرون میں مسلمانوں کے جنرل اسٹور پر نامعلوم شرپسندوں نے حملہ کیا جبکہ دوسرے واقعے میں جنوبی فرانس کے علاقے تولوز میں کچھ نامعلوم عناصر نے خنزیر کا سر اور اسکی کھال کو مسلمانوں کے ایک مرکز کے سامنے پھینک دیا۔فرانس میں اسلام کے خلاف متعصبانہ جذبات میں شدت آ گئی ہے جس پر وہاں کے مسلمان شہری بارہا اپنی تشویش ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی مساجد اور اسلامی مراکز کو لازمی سیکیورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ فرانس میں انسانی حقوق کی کارکن ماریا دی کارنتا نے ملک میں بڑھتے اسلاموفوبیا پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں ایک منصوبہ بندی کے ساتھ نسل پرستی پائی جاتی ہے اور اسلاموفوبیا کو کچھ خاص قوانین وضع کر کے سماج میں فروغ دیا گیا ہے۔


































